پاکستان سے سونے کے زیورات اور نیم قیمتی پتھروں کی ایکسپورٹ بند ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی:
ایس ار او کی معطلی سے پاکستان سے سونے کے زیورات اور نیم قیمتی پتھروں کی ایکسپورٹ بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ملک سے سونے کے زیورات اور نیم قیمتی پتھروں کی ایکسپورٹ کی اسکیم معطل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سونے کے زیورات اور نیم قیمتی پتھروں کی ایکسپورٹ کا ایس آر او 760 معطل کرنے کی سفارشات تیار کر لی گئیں جس پر کابینہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
ایس ار او 760/2013 کے تحت سونے کے زیورات اور نیم قیمتی پتھروں کی ایکسپورٹ کی ریگولیشن سخت کی گئی تھی۔
ایکسپورٹرز کے مطابق ایس ار او 760 ایکسپورٹ میں 98 فیصد تک کمی کا سبب بنا، ایس ار او کی معطلی سے زیورات کی تیاری کے لیے درآمد کردہ سونے پر امپورٹ ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔
برآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں پھنس جائیں گے جس سے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ جاری رکھنا ناممکن ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے سونے کے زیورات ایس ار او
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔