پاکستانی فضائی حدود کی بندش تیرہویں روز میں داخل ، بھارتی ایئرلائنز کو 13 دن میں اربوں کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 06 مئی ۔2025 )پاکستان کی جانب سے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کی بندش منگل کو تیرہویں روز بھی برقرار رہی جس کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اب تک اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارتی ایئرلائنز کی 1350 سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور رپورٹس کے مطابق بھارتی ایئرلائنز کو اب تک 275 کروڑ بھارتی روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے.
(جاری ہے)
ایئرانڈیا، آکاسا ایئر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ایئر اور ائیر انڈیا ایکسپریس کی کئی پروازیں اس بندش سے متاثر ہو چکی ہیں پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی طیاروں کو آدھے بھارت سے ہو کر بحیرہ عرب کے ذریعے پرواز کرنا پڑ رہا ہے ان طویل راستوں کی وجہ سے بھارتی ایئرلائنز کے فیول اور دیگر آپریشنل اخراجات میں دگنا اضافہ ہوا ہے. اس کے علاوہ انڈیگو ایئر کی تاشقند اور الماتی کے لیے پروازیں بند ہیں اور تاحال بحال نہیں ہو سکی ہیں اسی طرح امرتسر، دہلی، ممبئی، احمد آباد اور بنگلور سمیت مختلف شہروں سے روانہ ہونے والی بھارتی ایئرلائنز کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ساتھ ہی امریکا، یورپ اور برطانیہ جانے والی بھارتی پروازوں کو متبادل روٹس سے بھیجنے پر مزید اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں. امریکی روٹ پر عملے کی تبدیلی کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو یورپ میں اضافی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں کئی پروازوں کی لینڈنگ اور ری فیولنگ سے ایئرپورٹ چارجز کی مد میں بھی یومیہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اس صورت حال میں مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے اور کئی افراد کو اب تک اپنی ہی ایئرلائنز سے ریفنڈ تک نہیں مل سکا جب کہ دہلی، ممبئی، امرتسر اور احمد آباد سے امریکا، برطانیہ اور یورپ جانے والی پروازوں کا دورانیہ اب 4 سے 10 گھنٹے بڑھ چکا ہے واضح رہے کہ پاکستان نے 23 اپریل کو بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود ایک ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو 23 مئی تک موثر ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارتی ایئرلائنز کو کا نقصان ہو کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔