ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سندھ، کے پی، بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سندھ، کے پی، بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ کر دیا transparency international WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی)پاکستان نے صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی آواز سندھ، خیبر پختونخوا (کے پی)اور بلوچستان کے وزرائے اعلی تک پہنچا دی ہے۔ تنظیم نے انہیں خطوط ارسال کیے ہیں جن میں سنگین خدشات کی تفصیلات درج ہیں۔
یہ خطوط وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کو لکھے گئے پہلے کے خطوط کی بازگشت ہیں، جن میں غیر مثر ضابطہ کاری کے باعث غیر معیاری ادویات کی وسیع دستیابی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ٹی آئی پاکستان کے خطوط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ غذائی اجزا اور متبادل ادویات بغیر مناسب فارمولیشن اور لیبلنگ کے فروخت ہو رہی ہیں۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مبینہ طور پر ایکسپائرڈ کارڈیک سٹینٹ لگانے کے واقعے کو خطرات کی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔تنظیم نے ڈرگ ایکٹ کے تحت اپنے مینڈیٹ کے باوجود ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے ضروری معائنہ کرنے میں مبینہ ناکامی کا ذکر کیا۔ ایک اہم تشویش غیر رجسٹرڈ ویٹرنری ادویات کی دستیابی ہے، جو مویشیوں کے لیے خطرہ ہے۔ٹی آئی پاکستان نے صوبوں میں ڈرگ انسپکٹرز کی کافی تعداد کے باوجود مثر نفاذ کی مبینہ کمی کو اجاگر کیا۔
تنظیم نے تمام اقسام کی ادویات کی مکمل سیمپلنگ اور جانچ کا مطالبہ کیا اور ایکسپائرڈ اور غیر رجسٹرڈ طبی آلات کے ذمہ دار افراد کے خلاف شناخت اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ٹی آئی پاکستان نے غذائی اجزا اور متبادل ادویات تیار کرنے والے یونٹس کے معائنے پر زور دیا اور غیر تعمیل کرنے والی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ٹی آئی پاکستان نے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت کام کرنے والے ایک غیر جانبدار سیٹی بلور کے طور پر اپنے کردار کو دہرایا اور وزرائے اعلی پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ صوبوں میں عوام اور مویشیوں کے لیے محفوظ اور معیاری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے افسران اور ملازمین کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کی سکروٹنی کیلئے کمیٹی تشکیل ، 8رکنی کمیٹی7دن میں سینیارٹی اور سکروٹنی کر کے اپنی رپورٹ پیش کریگی،دستاویز سب نیو ز پر سی ڈی اے افسران اور ملازمین کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کی سکروٹنی کیلئے کمیٹی تشکیل ، 8رکنی کمیٹی7دن میں سینیارٹی اور سکروٹنی کر کے... اسحاق ڈار کا قائم مقام افغان وزیر خارجہ سے رابطہ، بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے سے آگاہ کیا وزیراعظم کا سروسز چیفس کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ، وطن کے دفاع کے عزم کا اعادہ سی ڈی اے بورڈ ممبران اور ملازمین کو پلاٹ الاٹمنٹ کرنے کا معاملہ ،اجلاس کے اہم نکات سب نیوز نے حاصل کرلئے پبلک اکائونٹس کمیٹی نے پی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس ایف آئی اے کو بھجوا دیا چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کارروائی کا مطالبہ پاکستان نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔