بھارتی پروپیگنڈہ بےنقاب کرنے کے لئے عالمی اور مقامی میڈیا نمائندگان کا مریدکے اور بہاولپور کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بھارتی پروپیگنڈہ مزید بے نقاب کرنے کے لئے بین الاقوامی اور قومی میڈیا نمائندگان کو مریدکے اور بہاولپور کا دورہ کروایا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اطلاعات و نشریات نے دورے کے د وران صحافیوں کو زمینی حقائق سے آگاہ کریں گے، نمائندگان کو اُن مقامات کا دورہ کروایا جائے گا جنہیں بھارت دہشتگردی کے خیالی ٹھکانے قرار دیتا ہے۔
بھارت کی جانب سے مریدکے اور بہاولپور میں دہشتگردوں کے مبینہ اور خیالی ٹھکانوں کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔
میڈیا نمائندگان ان مقامات اور آبادی کا تفصیلی مشاہدہ کریں گے، اس سے پہل بھی 5 مئی کو ایل او سی کے دورے میں انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا کو دورہ کروایا گیا تھا۔
دورے میں بھارت کا خیالی دہشت گردوں کے کیمپس کا بے بنیاد جھوٹ اور پروپیگنڈا پوری طرح بے نقاب کیا گیا، ان دوروں سے عالمی اور قومی میڈیا کے سامنے بھارت کے بے بنیاد دعوو ں کی قلعی کھل رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔