Islam Times:
2026-06-03@07:50:40 GMT

یمن پر ہزاروں حملوں کا جواب

اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT

یمن پر ہزاروں حملوں کا جواب

اسلام ٹائمز: انصاراللہ تحریک کے ایک رہنماء عبدالسلام جحاف نے میڈیا کو بتایا ہے کہ یمن کی مسلح افواج نے اسرائیل کے تمام ہوائی اڈوں کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے، جس میں تل ابیب کا بن گوریون ہوائی اڈہ سرفہرست ہے۔ یہ نہ صرف ایک بے مثال تاریخی لمحہ ہے بلکہ علاقائی تصادم کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی۔ انصاراللہ کے رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ صرف علامتی عمل یا میڈیا تنازعہ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے، جو خطے میں ایک نیا سیاسی اور فوجی نقشہ بنا رہا۔ تحریر: سید رضا میر طاہر

امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ یمن پر ایک ہزار سے زائد حملے کرچکا ہے اور اس سلسلے میں صیہونی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یمن پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملوں کے بعد امریکہ نہ صرف اس ملک کی مزاحمت کو روکنے میں ناکام رہا ہے بلکہ اسے بھاری جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ یہ حملے بحیرہ احمر کی سلامتی اور غزہ میں ہونے والی پیش رفت پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف خطے میں واشنگٹن کی فوجی حکمت عملی کی ناکامی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ 15 مارچ 2025ء سے امریکہ نے یمنی افواج کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔ تاہم یمنی فوج نے نہ صرف اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ صیہونی حکومت سے وابستہ امریکی جہازوں اور کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یمن کے بارے میں غلط فہمیاں:
امریکہ نے یمنیوں کو عرب بدو سمجھ  کر ان کے خلاف جنگ ​​شروع کی، لیکن اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک تجربہ کار قوت کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی فوجی ناکامی:
امریکہ B-2 بمباروں اور GBU-57 بنکر کو تباہ کرنے والے بموں سمیت جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود یمنی مزاحمت پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

بھاری جانی نقصان:
یمنی فورسز نے کم از کم 27 کی تعداد میں MQ-9 ریپر ڈرون (800 ملین ڈالر مالیت کے) اور دو امریکی F-18 جنگجوؤں کو ابھی تک مار گرایا ہے۔
بحری بیڑے کی پسپائی:
 امریکہ مجبور ہوگیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز "ہیری ٹرومین" کو یمنی میزائلوں کے خوف سے یمن کے ساحل سے ایک ہزار کلومیٹر دور تعینات کرے۔
امریکہ حملے کیوں نہیں روکتا؟

1۔ صہیونی لابی کا دباؤ:
امریکا میں اسرائیلی لابی واشنگٹن کی پالیسی سازی پر سخت اثر انداز ہوتی ہے اور صیہونی حکومت پر دباؤ کم کرنے کے لیے مسلسل حملوں کا مطالبہ کرتی ہے۔
2۔ فوجی صنعتی کمپنیوں کے مفادات:
جنگ میں اضافے سے ہتھیار بنانے والوں کو فائدہ ہوتا ہے اور مسلسل تنازعات ہتھیاروں کی فروخت کے بازار کو گرم رکھتے ہیں۔ ادھر انصاراللہ تحریک کے ایک رہنماء عبدالسلام جحاف نے میڈیا کو بتایا ہے کہ یمن کی مسلح افواج نے اسرائیل کے تمام ہوائی اڈوں کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے، جس میں تل ابیب کا بن گوریون ہوائی اڈہ  سرفہرست ہے۔

یہ نہ صرف ایک بے مثال تاریخی لمحہ ہے بلکہ علاقائی تصادم کے ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی۔ انصاراللہ کے رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ صرف علامتی عمل یا میڈیا تنازعہ نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے، جو خطے میں ایک نیا سیاسی اور فوجی نقشہ بنا رہا۔ مبصرین اس صورتحال کو نیتن یاہو کی کابینہ پر ناقابل برداشت سیاسی اور فوجی دباؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جسے پہلے ہی غزہ میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا ہے اور وہ بیرونی محاذ پر خطرات کا مقابلہ کرنے کی بھی متحمل نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے بلکہ ہے اور کے ایک

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان