اسلام آباد:

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجا کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ان کی بہنوں کی ملاقات ہوگی لیکن پولیس والے ملاقات نہیں ہونے دے رہے ہیں لہٰذا پولیس کے رویے پر قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور ہم وزیراعظم شہباز شریف کو اسمبلی میں بات نہیں کرنے دیں گے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے عمر ایوب نے کہا کہ پولیس نے مجھ سمیت تمام ارکین  پارلیمینٹ کو روک رکھا ہے، بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے پاس عدالتی حکم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا چیف جسٹس سے مل کر آئے ہیں، ان کو بھی نہیں ملنے دے رہے ہیں، پولیس والے دکھانا چاہ رہے ہیں کہ یہ اپوزیشن لیڈر اور چیف وہپ کو گرفتار کریں گے تو کرلیں، چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجا کو یقین دہانی کرائی تھی۔

عمرایوب کا کہنا تھا کہ یہ عدالتی احکامات کی توہین کر رہے ہیں، یہ عمران خان سے ڈرتے ہیں، قومی اسمبلی میں بھی کہا تھا لیکن انہوں نے سنسر کی، میں نے کہا تھا  اے پی سی ہونی چاہیے جس میں عمران خان کی شرکت لازمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں، سیاسی کارکن ہیں، ایم این اے خرم ورک پر لاٹھی چارج کیا گیا، شہباز شریف، مریم نواز یہ دیکھ لیں، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں یقین دہانی کرائیں، ہمارے پاس کیا ہے ایک قلم ہی ہے،کیا یہ ہتھیار ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم پولیس کے رویے کے خلاف قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور وزیراعظم شہباز شریف کو بات نہیں کرنے دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں شہباز شریف رہے ہیں نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری