اسپیکر قومی اسمبلی کی ضلع کچھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ضلع کچھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکے کی مذمت کی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے دھماکے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے 7 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید سیکیورٹی اہلکاروں کے اہلخانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: مسلح افراد کا پولیس موبائل پر حملہ، جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور ہلاک
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہیں، بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
واضح رہے کہ ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 7 جوان شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: جمیعت علما اسلام نظریاتی ضلع کوئٹہ کے امیر قاری مہراللہ پر قاتلانہ حملہ
شہدا میں صوبیدار عمر فاروق، 42 سال؛ رہائشی کراچی، نائیک آصف خان، عمر 28 سال؛ رہائشی ضلع کرک، نائیک مشکور علی عمر 28 سال؛ رہائشی ڈسٹرکٹ اورکزئی، سپاہی طارق نواز عمر 26 سال؛ ضلع لکی مروت، سپاہی واجد احمد فیض 28 سال؛ ضلع باغ کا رہائشی، سپاہی محمد عاصم عمر 22 سال؛ رہائشی ضلع کرک اور سپاہی محمد کاشف خان عمر 28 سال؛ ضلع کوہاٹ شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بی ایل اے دہشتگردی سیکیورٹی فورسز کچھی حملہ کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بی ایل اے دہشتگردی سیکیورٹی فورسز کچھی حملہ کوئٹہ اسپیکر قومی اسمبلی میں سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔