مچ: کالعدم بی ایل اے کے دہشتگردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
فوٹو فائل
کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچ میں حملہ کیا ہے جس کے دوران 7 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی یس پی آر کے مطابق بھارتی آلۂ کار بی ایل اے کے دہشت گردوں نے مچ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ شہید ہونے والوں میں صوبیدار عمر فاروق، نائیک آصف خان، نائیک مشکور علی، سپاہی طارق نواز شامل ہیں۔
مچ میں گزشتہ روز ہوئے ناکام دہشت گرد حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بتایا ہے کہ شہید ہونے والوں میں سپاہی واجد احمد فیض، سپاہی محمد عاصم اور سپاہی محمد کاشف خان بھی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ اور سنگین کارروائی کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے مزید کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز قوم سے مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی سر زمین پر سرگرم بھارت اور اس کے آلۂ کاروں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے، ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور غیور پاکستانی قوم بھارتی آلۂ کاروں کو ناکام بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز