ترک انٹیلیجنس نے لبنان پیجر دھماکوں جیسا ایک اور حملہ ناکام بنادیا، ترک اخبار کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ترک انٹیلیجنس نے لبنان پیجر دھماکوں جیسا ایک اور حملہ ناکام بنادیا، ترک اخبار کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
انقرہ(سب نیوز) ترک اخبار نے دعوی کیا ہے گزشتہ ستمبر میں لبنان میں پیجر دھماکوں کے فوری بعد ترک انٹیلیجنس نے لبنان میں ویسا ہی ایک اور حملہ ناکام بنایا۔
رپورٹ کے مطابق ترک انٹیلیجنس نے گزشتہ سال ستمبر میں لبنان پیجر دھماکوں کے چند روز بعد استنبول ائیرپورٹ پر ہانگ کانگ سے براستہ ترکیہ لبنان جانے والا کارگو ضبط کیا جس میں سیکڑوں ایسے پیجر موجود تھے جن میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ترک انٹیلیجنس کے اطلاع ملی کہ پیجرز پر مشتمل گارکو ترکیہ کے راستے لبنان جارہا ہے جس میں حکام نے استنبول ائیر پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے کارگو کو جو لبنان میں دھماکوں سے ایک روز قبل ہانگ کانگ سے ترکیہ پہنچا تھا اور 27 ستمبر میں اسے ترکیہ سے لبنان پہنچنا تھا۔
850 کلوگرام وزنی اس کارگو کو فوڈ چوپرز ظاہر کیا گیا تھا تاہم تلاشی پر اس میں سے 1300 پیجرز اور 710 ڈیسک ٹاپ چارجرز برآمد ہوئے۔ ابتدائی جانچ کے بعد استنبول پراسیکیوٹر آفس نے پیجرز کو ضبط کرنے کا حکم دیا اور اسے بارودی مواد کی موجودگی کے شبہ میں کرائم لیبارٹری منتقل کر دیا گیا۔ماہرین نے تجزیے کے بعد بتایا کہ ہر پیجر کے بیٹری میں 3 گرام سفید رنگ کا نامعلوم دھماکہ خیز مواد نصب تھا، جس کے ساتھ ڈیٹونیٹر فیوز بھی لگے ہوئے تھے۔ مزید تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ مواد دور سے مخصوص سگنلز کے ذریعے یا درجہ حرارت بڑھنے پر پھٹ سکتا ہے۔
پیجرز کے ساتھ ضبط کیے گئے چارجرز اور اضافی بیٹریز میں بھی بھورے رنگ کا دھماکہ خیز مواد ملا جو کہ بیٹریز میں مائع حالت میں انجیکٹ کیا گیا تھا۔اسی دوران حکام نے پیجرز کی ایک اور کھیپ کو بھی چیک کیا جو اسی کمپنی کی طرف سے بھیجی گئی تھی لیکن اس کا وصول کنندہ مختلف تھا۔ اس دوسری کھیپ میں کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں پایا گیا۔ترک میڈیا کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ترکیہ میں اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک متعدد خفیہ نیٹ ورکس کا بھی پتا لگایا گیا ہے، ان نیٹ ورکس کا ہدف ترکیہ میں مقیم فلسطینی اور خاص طور پر حماس سے وابستہ شخصیات تھیں۔ اس کے علاوہ درجنوں افراد کو جاسوسی اور اسرائیلی انٹیلیجنس سے روابط کے الزام میں گرفتار یا حراست میں لیا جاچکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی سائبر اٹیک کے خدشات، کابینہ ڈویژن نے ایڈوائزری جاری کر دی بھارتی سائبر اٹیک کے خدشات، کابینہ ڈویژن نے ایڈوائزری جاری کر دی خواجہ آصف کے بیان کو سیاسی مخالفین اپنے فائدے کیلئے استعمال کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان تشدد کا معاملہ ،پی ٹی آئی رہنماوں نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنا دے دیا ہم وزیراعظم شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں بات نہیں کرنے دیں گے، قائد حزب اختلاف عمرایوب روس پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، صدرمملکت پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے آو آئی سی گروپ کے بیان پر بھارت تلملا اٹھاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ترک انٹیلیجنس نے پیجر دھماکوں ایک اور
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ