امریکا کا فلسطین کے سفارتی امور اسرائیل میں قائم سفارتخانے میں ضم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا ہے کہ فلسطین کے امور کے لیے قائم دفتر کو یروشلم میں قائم اپنے سفارت خانے کے ساتھ ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ٹیمی بروس نے بتایا کہ وزیرخارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کرلیا ہے کہ فلسطین کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور کے لیے قائم دفتر کو یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ ضم کرلیا جائے گا۔
ٹیمی بروس نے کہا کہ فلسطینی امور کا امریکی دفتر اب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہوکیبی کو رپورٹ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں فلسطین سے تعلقات کے لیے قائم دفتر کے دیگر امور اسرائیل میں قائم سفارت خانے میں ضم کردیے جائیں گے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔