ہم غزہ کی عوام کیخلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنیکے مخالف ہیں، مصری صدر
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
یونانی وزیراعظم کیساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچ سکے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر کے صدر "عبدالفتاح السیسی" نے کہا کہ "قاھرہ"، 18 ماہ سے زائد تباہی کا شکار رہنے والے غزہ کی عوام کے خلاف بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مخالف ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یونانی وزیراعظم "کریاکوس میتسوتاکیس" کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں نے یونانی وزیراعظم کو اس بات کا یقین دلایا کہ مصر، غزہ میں نہتے شہریوں کو طبی سہولیات کی عدم موجودگی پر تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر غزہ کے لوگوں کو جبری طور پر کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ قابل مذمت ہے۔ عبدالفتاح السیسی نے ایک بار پھر غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچ سکے۔ دوسری جانب یونانی وزیراعظم نے اس مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ کی بحالی کے لئے عرب منصوبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یونان اگلے مہینے سلامتی کونسل کی قیادت کرتے ہوئے علاقائی سالمیت کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونانی وزیراعظم انہوں نے کہا کہ غزہ کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔