لیفٹیننٹ کرنل کے 7 سالہ شہید بیٹے کی نماز جنازہ، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد؍ راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال کراس بارڈر جارحیت کے دوران لیفٹیننٹ کرنل ظہیرعباس طوری کے سات سالہ کمسن صاحبزادے ارتضیٰ عباس طوری شہید ہوگئے جن کی نماز جنازہ اسلام آباد میں ادا کر دی گئی نماز جنازہ میں صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف ، سینیٹر اسحٰق ڈار ، خواجہ محمد آصف ، عطاء اللہ تارڑ ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نویدِ اشرف سمیت سینئر حاضر سروس و ریٹائرڈ فوجی افسروں، عسکری و سول اہلکاروں ، فوجی جوانوں اور شہید کے عزیز واقارب نے شرکت کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ معصوم شہریوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، سفاک اور مذموم حرکت ہے صدر مملکت اور وزیراعظم نے مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج بھارت کو ہر محاذ پر سخت اور دندان شکن جواب دے رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بین الاقوامی قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے اصولوں کی پامالی کا فیصلہ کْن جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔