ہم نے دشمن کے 25 ڈرونز مار گرائے، میوزیم میں رکھیں گے: عطاء اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
ہم نے دشمن کے 25 ڈرونز مار گرائے، میوزیم میں رکھیں گے: عطاء اللہ تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جذبہ حب الوطنی کی اعلیٰ مثال قائم ہو چکی ہے اور پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا ہے اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، مگر پاکستان کے دفاعی نظام اور بہادر شاہینوں نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اپنے رافائل جیٹس پر بڑا ناز تھا، لیکن پاک فضائیہ نے ان کا مورال زمین بوس کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی بار بھارت کو “فنٹاسٹک ٹی” پلائی گئی، اس بار “چائے کی ہوم ڈیلیوری” کی گئی۔ دشمن کے کئی ڈرونز مار گرائے گئے، جنہیں میوزیم میں رکھا جائے گا تاکہ آئندہ نسلوں کو یہ کامیابیاں دکھائی جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس پر پاکستان نے سخت اور فوری جواب دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دشمن کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر بھی نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کی ایک بڑی عسکری کامیابی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستانی شہریوں پر حملہ کیا، حالانکہ تحقیقات تک نہیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے افواج پاکستان کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ خود رافائل جیٹس کا ملبہ دکھا رہے ہیں، جو پاکستان کی فتح کا ثبوت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت نے سکھ برادری کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر اپنی اصلیت دنیا پر آشکار کی، اور سکھوں نے اس جارحیت کو مسترد کر دیا۔
آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ترین ہاتھوں میں ہے، اور عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے چکی ہے۔ بیانیہ کی جنگ ہو یا سفارتی محاذ، بھارت کو ہر طرف سے شکست کا سامنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی زیرِصدارت ملکی سلامتی پر اہم اجلاس؛ عسکری قیادت بھی شریک وزیراعظم کی زیرِصدارت ملکی سلامتی پر اہم اجلاس؛ عسکری قیادت بھی شریک پولیس کا عمران خان کا پولی گرافک اور فوٹو گرافک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ بھارت نے سندھ اور پنجاب میں اسرائیلی ساختہ جدید ڈرونز چھوڑ دیے، فورسز نے 25 کو مار گرایا لاہور: والٹن، برکی روڈ اور ڈیفنس میں شدید فائرنگ، دھماکوں کی آوازیں، سائرن بج گئے پاکستان بھارت کو بھاری نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے: امریکی اخبار بھارت کے بزدلانہ حملے پر پاک فوج کا دندان شکن جواب: دشمن کے5 جدید طیارے، ڈرونز اور متعدد پوسٹیں تباہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ نے نے کہا کہ بھارت انہوں نے بھارت کو دشمن کے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔