9 مئی2025: دوسری تلخ’’ سالگرہ‘‘
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرے سے گہرے زخم بھی بھر جاتے ہیں، مگر ان کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ نشان ہمیں زخموں سے جُڑے گزرے ہُوئے تلخ لمحات اور سانحات کی یاد دلاتے ہیں۔ 9مئی 2023 کے سانحات بھی ایسے ہی زخم ہیں جو دو سال گزرنے پر بھر تو گئے ہیں ، مگر ان کے نشان باقی ہیں ۔ 9مئی کے واقعات و سانحات کی بازگشت ہنوز ہماری سیاست و عدالت کے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے ۔ مثال کے طور پر 5مئی2025 کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں اٹارنی جنرل آف پاکستان(منصور عثمان اعوان) نے اپنے بیان میں کہا:’’9مئی2023 کو ملک بھر میں، 4گھنٹوں کے دوران، 39حساس اور فوجی تنصیبات پر حملے ہُوئے ۔
لاہور کور 3گھنٹے تک غیر فعال رہی ۔( بعد ازاں اِس) غفلت پر کور کمانڈر (لاہور)سمیت 3فوجی افسران( جن میں ایک لیفٹیننٹ جنرل، ایک بریگیڈئر اور ایک لیفٹیننٹ کرنل شامل ہیں) کو بغیر پنشن ریٹائر کیا گیا۔ 14افسران کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔‘‘ اٹارنی جنرل صاحب نے یہ الفاظ اُس وقت ادا کیے جب سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کررہی تھی۔ اِن اپیلوں کا تعلق 9مئی کے حملوں ہی سے بتایا جاتا ہے ۔اور اب 7مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اکثریتی شارٹ آرڈر میں جو فیصلہ صادر فرمایا ہے (آرمی ایکٹ کی اصل شکل میں بحالی) ، اِس سے 9مئی کے ملزمان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے ۔
9مئی کے سانحات کو گزرے 730دن ہو چکے ہیں،مگر تلخ یادیں مدہم نہیں پڑ سکی ہیں۔آج بھی ہم اِس دن کے باطن سے جنم لینے والے متعدد اور متنوع سانحات کو بھگت رہے ہیں ۔ 9مئی 2023 کوبانی پی ٹی آئی کی گرفتاری پر (بے جا) ردِ عمل میں بانی پی ٹی آئی کے عشاق اور وابستگان نے وطنِ عزیز میں تباہی اور نفرت کے کئی اَلاؤ دہکا ڈالے۔
ہمارے قومی و عسکری شہدا اور ہیروز کی کئی یادگاروں کی توہین کی گئی ۔ کئی سرکاری عمارات کو نذرِآتش کیا گیا ۔ لاہور میں بانیِ پاکستان ، حضرت قائد اعظم محمد علی جناح، کی تاریخی رہائش گاہ پر حملہ تو ایسا سانحہ تھا کہ اس کی یاد سے آج بھی دل دہل دہل جاتے ہیں۔ 9مئی کے سانحات کے پس منظر میں ، ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے والی کس کس تباہی اور بربادی کا تذکرہ کیا جائے ؟اِن بربادیوں اور تباہیوں پر خاص طور پر بھارت میں جشن منائے گئے ۔ بھارتی میڈیا اور سیاستدان آج بھی ہمیں9مئی کے واقعات و سانحات کی یاد دلا کر مطعون بھی کرتے ہیں اور نادم بھی۔
آج پھر9مئی ہے ۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک، آن دی ریکارڈ، کبھی 9مئی کے سانحات کی مذمت کی ہے نہ اِس کے ذمے داران کی لفظی گوشمالی۔ پی ٹی آئی کے دیگر متعدد نمایاں لیڈرز بھی 9مئی کے واقعات کی مذمت کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ جب تک بانی صاحب مذمت نہیں کرتے، دیگر لیڈران بھی مذمت کے لیے تیار نہیں ۔اُن کا خیال ہے کہ وہ مذمت کرکے اپنا سیاسی کیریئر تباہ نہیں کرسکتے ۔
افسوس !وطن کی سالمیت اور سلامتی کے بالمقابل اپنے سیاسی کیریئر کی اس قدر فکر؟9مئی کے سانحات کے بعد متعدد پی ٹی آئی وابستگان حوالہ زندان ہیں۔بہت سوں کو عدالتیں رہا اور ضمانتیں دے چکی ہیں۔ابھی چند دن قبل پی ٹی آئی کے زندانی سینیٹر ، اعجاز چوہدری ، نے عدالت سے ضمانت پائی ہے ۔ شاہ محمود قریشی( سابق وزیر خارجہ) ، ڈاکٹر یاسمین راشد( سابق سینئر صوبائی وزیر صحت) اور عمر سرفراز چیمہ ( سابق گورنر پنجاب) ایسے کئی پی ٹی آئی رہنما ہنوز جیلوں میں ہیں ۔
دو برس ہو چلے ہیں،بانی صاحب بھی جیل میں قید ہیں۔اُنہیں کئی مقدمات کی پاداش میں عدالتوں نے قیدو بند کی سزائیں سنائی ہیں ۔ 9مئی کے سانحات اُن کے سر پر تلوار بن کر لٹک رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل سے مبینہ طور پر ، اُن سے منسوب، یہی آواز آتی ہے : ڈِیل نہیں کروں گا، عدالتوں کے توسط سے باعزت رہا ئی پاؤں گا۔ویسے یہ حقیقت ہے کہ9مئی کا مبینہ’’غدر‘‘ مچا کر بانی پی ٹی آئی نے جو مقاصد و اہداف حاصل کرنا چاہے تھے، سب میں ناکام و نامراد ہُوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اُن کی حکومتی پارٹی اور اُن کے وزیر اعلیٰ نے لاہور اوروفاق پر متعدد یلغاریں بھی کرکے دیکھ لی ہیں، مگر گوہرِ مقصود ہاتھ نہیں آ سکا ہے ۔
بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر عالمی صحافتی اداروں میں مضامین لکھ لکھ کر اور اپنی ’’مظلومیت‘‘ کی داستانیں سنا سنا کر بھی دیکھ لی ہے، لیکن کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے پر بھی کئی اُمیدیں وابستہ کی گئیں ، لیکن کوئی ایک اُمید بھی بَر نہیں آئی ۔ واشنگٹن میں پی ٹی آئی کے مہنگے لابیسٹ بھی بانی پی ٹی آئی کے کام نہیں آ سکے ۔برطانیہ اور امریکا میں پی ٹی آئی کے (پاکستانی) وی لاگرز نے شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لاتعداد بد کلامیاں و غلط بیانیاں بھی کرکے دیکھ لی ہیں ، لیکن یہ مذموم بیانیئے بانی پی ٹی آئی کے کسی کام نہیں آ سکے ۔ وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان اور پریس کانفرنسیں بھی ثابت کررہی ہیں کہ کوئی بھی بانی کے حق میں لب کشائی کرنے پر تیار نہیں ہے ۔
5مئی کو امریکا کے سب سے طاقتور اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے ایک مفصل آرٹیکل شائع کیا ہے۔ یہ آرٹیکل Pakistan,s Most Powerful Man Steps Out of the Shadows to Confront Indiaکے زیر عنوان پرنٹ ہُوا ہے ۔اِس مضمون کا چند لفظی خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان آرمی چیف ، جنرل عاصم منیر، جرأتمند جرنیل ہیں اور وہ ایک طاقتور فرد کی حیثیت سے بھارت کے مقابل آ کھڑے ہُوئے ہیں ۔ امریکی اخبار کے تجزیہ نگار نے دل کھول کو جنرل عاصم منیر کی تعریف و تحسین کی ہے ۔نیویارک ٹائمز میں مذکورہ آرٹیکل ایسے ماحول میں شائع ہُوا ہے جب امریکا میں آباد بانی پی ٹی آئی کے وابستگان وعشاق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تباہ کن ،منفی پروپیگنڈہ کررہے تھے ۔ اِس آرٹیکل نے مگر سارے پروپیگنڈہ کی ہوا نکال دی ہے۔
اُمید کی گئی تھی کہ 9مئی کے سانحات کو دو سال گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے عشاق ہوش اور عقل کے ناخن لیں گے۔ ایسا مگر نہیں ہو سکا۔ مثلاً:4مئی2025کو وفاقی وزیر اطلاعات( عطاء اللہ تارڑ)اور DGISPR(لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری) نے اسلام آباد میں ملک بھر کے سیاسی زعما کو ( پہلگام میں بھارتی فالس فلیگ اور پاک بھارت کشیدگی پر ) بریفنگ کے لیے ،اِن کیمرہ سیشن میں، مدعو کیا۔ ملک بھر کے کثیر سیاستدانوں نے شرکت کی ، مگر بانی پی ٹی آئی کے وابستگان نے شرکت سے انکار کر دیا۔
کیا اِس انکار کو ایک بار پھر، مرکزِ گریز اقدام قرار نہیں دیا جانا چاہیے ؟ آج9مئی2025 کو بانی پی ٹی آئی اوراُن کی پارٹی کو اپنے کردار پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے ۔ اُنہیں دریا کی موجوں میں واپس آنا چاہیے کہ پاکستان پر جنگ کے سائے لہرا رہے ہیںاور پاکستان بھارتی جارحیت کا دندان شکن جواب دے کر اقوامِ عالم میں سرخرو ہو چکا ہے ۔ ایسے پیش منظر میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کے عشاق کا قومی یکجہتی میں شامل ہونے سے انکار بے معنی ضِد ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کے 9مئی کے سانحات سانحات کی ا رٹیکل نہیں ا
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی