اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) دفترخارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے پاکستان میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بھارتی دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حملوں کے نتیجے میں خواتین‘ بچوں سمیت عام شہری مارے گئے ہیں۔ گزشتہ روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان اور آزادکشمیر میں بھارتی جارحیت کے دوران کچھ مساجد کو شہید کیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا، نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کے کچھ حصوں کو بھارتی گولہ باری سے نقصان پہنچا ہے جو بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے‘ دنیا بھارت کے اس جنگی جنون کا نوٹس لے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو ان جرائم کا جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا بھارتی قیادت نے پہلگام حملہ کے تناظر میں ایک بار پھر دہشت گردی کی مظلومیت کی اپنی شرمناک داستان کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا بھارتی جارحیت اور اقدامات سے علاقائی امن کو خطرہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ دنیا بھر کے متعدد ممالک نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی، یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت نے ان مطالبوں پر توجہ نہیں دی۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو اس کے غیر ذمہ دارانہ، غیر قانونی اور جارحانہ طرز عمل کیلئے جوابدہ بنائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے گزشتہ روز پاکستان پر کئی الزامات لگائے جو من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ آج تک بھارت اس دعوے کو سچا ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ شفقت علی خان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بھارتی حکومت نے پہلگام حملے کے متعلق گمنام اور مشکوک سوشل میڈیا پوسٹ کو اہمیت دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کے کسی بھی ملک کو چند سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ ترجمان نے کہا ممبئی اور پٹھانکوٹ واقعات کی تحقیقات میں گزشتہ کئی سالوں سے بھارت کے عدم تعاون کے رویے کی وجہ سے پیش رفت نہیں کرسکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت خود کو دہشت گردی کے شکار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کے کیس کی مثال دیتے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ بھارت کا ٹارگٹڈ قتل ودیگر تخریبی سرگرمیوں کا نیٹ ورک عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔ ترجمان نے نشاندہی کی کہ پہلگام پر حملہ پاکستان نے نہیں کیا بلکہ بھارت نے پاکستان کے کئی علاقوں پر حملہ کیا ہے اور یہ کہ پاکستان اپنے دفاع کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج تمام اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بین الاقوامی انہوں نے کہ بھارت

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب