Islam Times:
2026-06-03@04:46:03 GMT

یمن کے میزائل اور ڈرون حملے مقبوضہ فلسطین کی گہرائی تک

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

یمن کے میزائل اور ڈرون حملے مقبوضہ فلسطین کی گہرائی تک

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ اور حیفا کے ایک اہم اڈے پر ڈرون حملہ کیا ہے، اور یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملہ اور حیفا کے ایک اہم اڈے پر ڈرون حملہ کیا ہے، اور یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے آج جمعہ کو اعلان کیا کہ ایک اہم فوجی آپریشن کے دوران، مقبوضہ یافا میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حملہ ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے کیا گیا، تاہم میزائل کے نام کا ذکر نہیں کیا، لیکن بتایا کہ میزائل اپنے ہدف پر کامیابی سے لگا۔ انہوں نے تاکید کی کہ دشمن کے دفاعی نظام اس میزائل کو روکنے میں ناکام رہے، جبکہ دوسری طرف لاکھوں صہیونی شہری پناہ گاہوں کی طرف دوڑ گئے اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل ہوگئیں۔

چند گھنٹے پہلے خبری ذرائع نے رپورٹ دی کہ یمنی افواج نے جمعہ کے روز مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا۔ صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا کہ اس حملے کے بعد کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور 200 سے زائد علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت نے خبر دی کہ بن گوریون ایئرپورٹ سے پروازیں روک دی گئی ہیں۔ اسرائیلی چینل 14 نے اعتراف کیا کہ امریکی دفاعی نظام تھاد ایک ہفتے میں دوسری بار یمنی میزائل کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

یحییٰ سریع نے ان حملوں کو اسرائیلی فضائی ناکہ بندی کے فیصلے پر عمل درآمد قرار دیا اور کہا کہ یمنی ڈرون فورس نے یافا میں ایک اہم ہدف پر بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے ان کمپنیوں کو خبردار کیا جو اب تک اس ناکہ بندی کو نظرانداز کر رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطین کے لیے اپنی پروازیں بند کر دیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ غزہ پر جنگ کے خاتمے تک، فلسطینی ایئرپورٹس پر پروازوں اور سرخ و عرب سمندروں میں اسرائیلی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے ایک اہم

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع