ہم نے امریکہ کو شکست دی ہے، لاکھوں یمنیوں کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
امریکہ کے صدر کی جانب سے یمن کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد، یمنی عوام نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہیں، تو یقینی طور پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے صدر کی جانب سے یمن کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد، یمنی عوام نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ جنگ شروع کرنا چاہیں، تو یقینی طور پر اس کا جواب دیا جائے گا۔ فارس نیوز کے مطابق، لاکھوں یمنی شہری آج جمعہ کے روز بھی حسبِ سابق سڑکوں پر نکل آئے تاکہ غزہ کی حمایت کا اعلان کریں اور امریکہ و صہیونی حکومت کو خبردار کریں۔ یہ مظاہرہ الہی قوت کے ذریعے، ہم نے امریکہ کو شکست دی اور اسرائیل کو بھی شکست دیں گے کے عنوان سے منعقد ہوا۔ یمنی عوام نے اس بات پر تاکید کی کہ امریکہ یمن کے خلاف جنگ میں اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، بلکہ وہ صہیونی کشتیوں کی حمایت سے بھی پیچھے ہٹ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رہبر، مسلح افواج، اور امتِ اسلام و دنیا کے تمام حریت پسندوں کو امریکی دشمن کی شکست اور اس کے مقاصد میں ناکامی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ امریکہ کے اس اقدام نے صہیونی حکومت کے حکام کو غصے میں مبتلا کر دیا ہے، یہاں تک کہ کچھ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں امریکہ اور یمن کے درمیان ہونے والے معاہدے کی اطلاع نہیں تھی۔ امریکہ کے سفیر مائیک ہاکبی نے جمعہ کے روز مقبوضہ فلسطین میں کہا کہ واشنگٹن کو انصاراللہ یمن کے ساتھ جنگ بندی کے لیے صہیونی حکومت کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہاکبی نے مزید واضح کیا کہ جب تک یمنی افواج امریکی افواج یا اثاثوں کو نشانہ نہیں بناتیں، واشنگٹن کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو حوثیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے کے لیے اسرائیل کی اجازت درکار نہیں ہے جو انہیں ہماری کشتیوں پر حملہ کرنے سے باز رکھے۔ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) میں 7 لاکھ امریکی شہری مقیم ہیں۔ اگر حوثی اسرائیل کے خلاف کاروائیاں جاری رکھیں اور کسی امریکی کو نقصان پہنچے، تو تب یہ معاملہ ہمارے لیے اہم ہو جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا جوابی کاروائی صرف امریکی جانی نقصان کے بعد ہوگی؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہمارے لیے ترجیحات کیا بنتی ہیں۔
یمنی عوام نے اپنے بیان میں غزہ اور مزاحمتی فورسز کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ غزہ اور مزاحمت کی حمایت یقینی طور پر جاری رہے گی اور اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔ ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یمنی عوام نے صہیونی مجرم دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھیں گے اور اس دشمن کے ساتھ تمام میدانوں اور سطحوں پر ٹکراؤ جاری رکھیں گے۔ یمنی عوام نے تاکید کر کے کہا کہ اگر امریکہ دوبارہ حملے شروع کرے، تو ہم بھی اپنے حملے شروع کریں گے۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی جو بھی قیمت ہو، وہ یقیناً تسلیم ہونے کی قیمت سے کم ہے۔ بیان کے آخر میں عمان کے اس کردار کی تعریف کی گئی جو خطے میں امن و امان کی حمایت اور جنگوں کے خاتمے کی کوششوں کے لیے سرگرم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یمنی عوام نے امریکہ کے کی حمایت کے ساتھ اور اس کہا کہ یمن کے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔