یمن میں ناکام اور غزہ میں سرگردان
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: غزہ جنگ اور صیہونی رژیم کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی نہ روک پانا نیز روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کروانے میں ناکامی امریکہ کی ناکامیوں کی دو مثالیں ہیں۔ امریکہ نے گذشتہ چند ماہ کے دوران یمن پر وسیع فضائی حملے انجام دے کر غاصب صیہونی رژیم کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حملے روکنے کا اعلان کر کے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ صیہونی سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی میزائل اور ڈرون طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو امریکہ کی اس ناکامی کی مزید وضاحت کرتا ہے۔ صیہونی سیکورٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ انصاراللہ یمن بدستور سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے برخوردار ہے اور اس کے پاس اپنے ملک میں ہی یہ ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا خطے کے دورے سے چند دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں یمن کے خلاف فضائی حملے روک دینے کا اعلان کیا کہ انہیں انصاراللہ یمن پر اعتماد ہے کہ وہ مزید امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن پر امریکہ کے فضائی حملے روک دینے کا اعلان علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف قسم کے تجزیات اور قیاس آرائیوں کا باعث بنا ہے۔ انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف یمن اور امریکہ کے درمیان ہے اور اس میں غزہ کی حمایت میں یمن کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم پر انجام پانے والے ڈرون اور میزائل حملے شامل نہیں ہیں۔ اس سے انصاراللہ یمن کی تزویراتی گہرائی اور اپنے اصولی موقف پر ڈٹ جانے کا اظہار ہوتا ہے۔
انصاراللہ یمن نے نہ صرف اس معاہدے کو اپنی فوجی طاقت بڑھانے کا سنہری موقع قرار دیا ہے بلکہ اسے خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے اہم رکن کے طور پر یمن کی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا باعث بھی گردانا ہے۔ اس بارے میں امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنی رپورٹ میں یمن سے جنگ بندی معاہدے کو امریکہ کی جانب سے ایران سے جوہری مذاکرات آگے بڑھانے کی خواہش سے مربوط جانا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے حالات کس قدر پیچیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگرچہ انصاراللہ کے ترجمان اور امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان تیمی بروس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس سے متعدد علاقائی اور عالمی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے واشنگٹن کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں۔
غزہ جنگ اور صیہونی رژیم کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی نہ روک پانا نیز روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کروانے میں ناکامی امریکہ کی ناکامیوں کی دو مثالیں ہیں۔ امریکہ نے گذشتہ چند ماہ کے دوران یمن پر وسیع فضائی حملے انجام دے کر غاصب صیہونی رژیم کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حملے روکنے کا اعلان کر کے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ صیہونی سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی میزائل اور ڈرون طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو امریکہ کی اس ناکامی کی مزید وضاحت کرتا ہے۔ صیہونی سیکورٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ انصاراللہ یمن بدستور سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے برخوردار ہے اور اس کے پاس اپنے ملک میں ہی یہ ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
انصاراللہ اور فلسطین کی حمایت کا عہد
موجودہ حالات کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی عنصر انصاراللہ یمن کی جانب سے فلسطین کی حمایت کا عزم اور عہد ہے۔ یمن کی سپریم سیاسی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے امریکہ کی جانب سے یمن پر فضائی حملے روک دینے کے اعلان کو نہ صرف یمن کے لیے ایک فتح بلکہ غاصب صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں کے لیے شکست بھی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں یمن کی فوجی کاروائیاں غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالنے کے لیے انجام پا رہی ہیں تاکہ وہ غزہ میں جاری وحشیانہ جارحیت اور انسان سوز مظالم بند کر دے۔ یہ موقف ایک بار پھر یمن میں اسلامی مزاحمت اور فلسطین کاز کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے یمن پر وحشیانہ فضائی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بے بس اور مایوس ہو چکا ہے۔
امریکی فیصلے پر صیہونیوں کی بوکھلاہٹ
صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی جانب سے یمن پر فوجی جارحیت روک دینے کے اعلان نے صیہونی حکمرانوں کو شدید صدمے اور بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب امریکہ کے اس فیصلے سے آگاہ نہیں تھا اور وہ انصاراللہ یمن کے مقابلے میں امریکہ کی حمایت کھو دینے پر شدید تشویش کا شکار ہے۔ یوں علاقائی سطح پر موجود بحرانوں سے نمٹنے میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دوریاں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے وقت جب صیہونی رژیم امریکہ سے انصاراللہ یمن کے خلاف مزید شدت سے فوجی اقدامات انجام دینے کی توقع کر رہی تھی ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن پر فوجی کاروائی روک دینے کا اعلان کر دیا جس کا مطلب یمن کے مقابلے میں ناکامی اور انصاراللہ پر دباو میں کمی ہے۔
عمان، خطے کا نیا کھلاڑی
انصاراللہ یمن اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے سے عمان بھی خطے کے حالات پر اثرانداز ہونے والے ایک کھلاڑی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ عمان کی وزارت خارجہ نے مسقط مذاکرات انجام پانے اور ان کے نتیجہ خیز ہونے کا اعلان کیا ہے اور فریقین کی جانب سے مثبت رویہ اپنانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ خطے کے دیگر مسائل بھی اسی طرح پرامن طریقے سے حل کیے جائیں گے۔ دوسری طرف عمان، ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہا ہے جس کے باعث خطے میں ایک سفارتکار کھلاڑی کے طور پر اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ دوسری طرف انصاراللہ کی جانب سے غزہ جنگ جاری رہنے تک اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے حالات کافی پیچیدہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور امریکہ کے درمیان کی جانب سے یمن پر غاصب صیہونی رژیم انصاراللہ یمن ڈونلڈ ٹرمپ نے فضائی حملے اعلان کیا امریکہ کی کیا ہے کہ روک دینے حملے روک کی حمایت کا اعلان کرنے کی دیا ہے کے لیے ہے اور اور اس خطے کے یمن کے یمن کی
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر