مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے بانی چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں صحافی نے سوال کیا کہ ملک جنگی صورتحال میں ہے اور پی ٹی آئی اب بھی حکومت پر تنقید کر رہی ہے، کیا آپ ان کو سمجھانے میں یا مذاکرات میں کوئی کردار ادا کریں گے؟۔
جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، وہ بھی ملک کے لئے لڑنے کی بات کرتے ہیں، حکومت بھی لڑنے کی بات کرتی ہے، ان کا لیڈر جیل میں ہے، کارکنان بھی جیل میں ہیں، ان کو لگتا ہے کہ باہر آنے سے ملک کو فائدہ ہو گا، اس لئے وہ یہ مطالبہ بھی سامنے رکھتے ہیں، باقی معاملہ عدالت میں ہے، میں سیاسی بندہ ہوں، کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر کو جیل رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ ابھی اپنی پوزیشن کو واضح نہیں کر رہا، بڑی طاقتوں کا اپنی پوزیشن واضح نہ کرنا ظاہر ہے یہ ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، امریکا نے اسرائیل کا ساتھ دیا، 60 ہزار انسانوں کے قتل عام پر امریکہ خاموش ہے اور وہ اسرائیل کو حق بجانب سمجھتا ہے، امریکہ اپنا مفاد دیکھے گا اس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو محاذ پر لڑ رہے ہیں وہ جنگ کی حکمت عملی خود بناتے ہیں، جنگ اس حد تک نہیں پہنچی کہ ایٹمی جنگ بن جائے، اس وقت پاکستان کو کئی فتوحات حاصل ہوئی ہیں، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آ رہی ہیں اور بھارت جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، من گھرٹ خبریں پھیلا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمخصوص نشستوں کا کیس،جسٹس عائشہ کا اختلافی نوٹ ویب سائٹ پر نہ آنے پر چیف جسٹس کو خط مخصوص نشستوں کا کیس،جسٹس عائشہ کا اختلافی نوٹ ویب سائٹ پر نہ آنے پر چیف جسٹس کو خط رواں ہفتے 9اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری وفاقی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی ڈرل مشقیں کرنے کا فیصلہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر کی 48 گھنٹے میں دوسری اہم ملاقات، پاک بھارت کشیدگی اور سرحدوں کی صورتحال پر... پاک بھارت کشیدگی ،سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ پاکستان کے دورہ پر پہنچ گئے شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا کی میزبانی میں بکنگھم پیلس میں سیزن کی پہلی رائل گارڈن پارٹی، برٹش پاکستانی شخصیت سید سجاد حیدر کاظمی...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی جیل میں کو جیل
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔