مظفر آباد میں سناٹے اور خوف کی فضا:’چھٹیاں منانے آئے تھے لیکن اب گوگل پر میزائل رینج چیک کر رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے تھے، وہاں پہاڑوں کے رخ پر موجود کمرے آہستہ آہستہ خالی ہو رہے تھے۔ہوٹل کے ان پریمیئر کمروں کی بالکونی سے پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ پہاڑ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا کے زیر انتظام علاقے سے الگ کرتے ہیں۔ تاہم یہاں کی رونق اب سناٹوں میں بدل رہی ہے۔ہوٹل کے ایک سٹاف ممبر نے جمعرات کو مجھے مدہم آواز میں بتایا کہ ’ ہمارے پاس اب کوئی مہمان یا سیاح نہیں ہیں۔ جو لوگ یہاں موجود ہیں انھیں کہیں اور منتقل کر دیا جائے گا۔اور پھر اگلے چند گھنٹوں میں بی بی سی کی ٹیم کو بھی ہوٹل کی نچلی منزل پر منتقل کر دیا گیا۔آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ آگے کیا ہوگا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔