گودی میڈیا جرنلزم کے نام پر سیاہ دھبہ بن چکا ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
لاہور:
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارتی گودی میڈیا جرنلزم کے نام پر سیاہ دھبہ بن چکا ہے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ گودی میڈیا مودی حکومت کے تلوے چاٹنے میں آخری حد تک پہنچ چکا ہے، ایک جھوٹ مودی سرکار بولتی ہے آگے سو جھوٹ بھارتی میڈیا پھیلانے کا کام کرتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ گودی میڈیا کے نزدیک بھارت نے پورا پاکستان فتح کرلیا مگر پاکستان کے تمام شہر محفوظ اور معمولات زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کا میڈیا بھارتی حکومت اور گودی میڈیا کا مذاق اڑا رہا ہے، پاکستان کے شہر کے قریب بھی پھٹکنا بھارت کی ناتمام خواہش ہے جو تا قیامت ناتمام رہے گی۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ انڈین میڈیا کارٹون نیٹ ورک بن چکا ہے، مودی خود ایک ہفتے سے کسی بل میں چھپ کر بیٹھا ہے، بھارت نے 1965 میں لاہور فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا پھر عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، آج پھر تین دن سے بھارتی فورسز پاکستان کی فورسز سے زلت آمیز شکست کھارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے اسکی تصدیق انٹرنیشنل میڈیا کررہا ہے۔ گودی میڈیا مودی سرکار کی عالمی ہزیمت مٹانے کےلئے پاکستانی طیارے گرانے کی فیک نیوز پھلارہا ہے، الحمدللہ پاکستان کے تمام طیارے مکمل محفوظ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گودی میڈیا نے کہا کہ چکا ہے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔