امرتسر پر ’’حملہ ‘‘ سکھوں کو پاکستان سے لڑانے کا بھارتی منصوبہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) بھارت کا امرتسر پر حملہ کرکے پاکستان اور سکھوں کو لڑانے کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق اب مودی سرکار بھارتی پنجاب میں فالس فلیگ آپریشن کرکے الزام پاکستان پر لگا کر سکھوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارت نے تین میزائل خود امرتسر پر گرائے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے بھارت کا اپنا ڈرون سکھوں کے گوردوارہ میں گرا ہے۔ بھارت کا مقصد سکھوں کو پاکستان کے خلاف کرنا ہے۔ بھارتی فوج کی جارحیت میں ناکامی کے بعد بھارتی میڈیا بدحواس ہو گیا۔ بھارتی میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی پنجاب میں میزائل فائر کیا۔ میزائل حملے کا ڈرامہ بھی پہلگام فالس فلیگ آپریشن جیسا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے خود بھارتی پنجاب پر حملہ کرنے کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ اس مجوزہ فالس فلیگ آپریشن (مودی سرکار کی سازش) کا مقصد بھارتی سکھوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنا ہے، جو پہلے ہی پاکستان کے حق میں بیانات دے چکے ہیں۔ سکھ برادری پاکستانی پنجاب کو مقدس سرزمین مانتی ہے اور وہ پاکستان پر حملے کے حق میں نہیں ہیں۔ مودی حکومت کی کوشش ہے کہ بھارتی سکھوں کو اپنے ساتھ ملا کر لاہور اور سیالکوٹ جیسے پاکستانی شہروں پر جارحیت کا جواز پیدا کرے۔بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں حملوں کی بھی فیک نیوز چلا دی، پاکستان سکیورٹی ذرائع نے اسے غلط قرار دے دیا۔ دوسری جانب جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ایف 16 اور جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کے بارے میں بے بنیاد اور جھوٹے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں آپ کو کہیں نہیں ملیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی پنجاب سکھوں کو نے کہا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔