انڈین میڈٰیا کی فیک نیوز فیکٹری متحرک، پاکستان کی جانب سے بھارتی پنجاب پر میزائل حملے کا جھوٹ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارتی فوج کی جارحیت میں ناکامی اور لڑاکا طیاروں کی پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہی سے بھارتی میڈیا بدحواس ہوچکا ہے اور اس نے اپنی فوج اور حکومت کی ہزیمت کو چھپانے کے لیے نیا ڈرامہ شروع کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا بھارتی پنجاب پر حملہ کرکے الزام پاکستان پر لگانے کا منصوبہ بے نقاب
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی پنجاب میں میزائل فائر کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میزائل حملے کا ڈرامہ بھی پہلگام فالس فلیگ کی طرح ہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق میزائل پروجیکٹائل زمین پر موجود گھاس پر پڑاہے اور اس کے گرنے سے گھاس خراب نہیں ہوئی ہے۔
پہلے ہی یہ خبریں گردش میں ہیں کہ مودی بھارتی پنجاب میں فالس فلیگ کرکے الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا فیک نیوز فیکٹری بن چکا ہے اور اس طرح کا پروپیگنڈا کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارتی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب: پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا پول کھل گیا
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا مودی کے بھارتی سکھوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانے کے منصوبے کا اہم کردار ہے اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی کو قومی فخر سمجھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کا جھوٹ بھارتی میڈیا کا جھوٹ فیک نیوز فیکٹری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کا جھوٹ بھارتی میڈیا کا جھوٹ بھارتی پنجاب بھارتی میڈیا کا جھوٹ ہے اور
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔