اسلام آباد:

رہنما مسلم لیگ (ن) عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ جب ہم نے ان کے رافال جیٹ گرائے ہیں اور ان کو توقع نہیں تھی کہ ان کے رافیل جیٹ گر جائیں گے کیونکہ سپیرئیر ٹیکنالوجی ہے، مانا جاتا ہے کہ یہ بڑے انونسیبل ہیں تو اس کے بعد ان کی ایئر فورس کا اور ان کے پائلٹوںکامورال ڈاؤن ہوا تو انھوں نے اپنے جہاز جنوب میں منتقل کر دیے نیچے لے گئے اور وڈرا کر گئے اور اس کی ایویڈنس بھی ہمارے پاس ہے، نیچرلی۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کے بعد انھوں نے بزدلانہ حملہ کیا ہے وہ ان مینڈ ڈرونز سے کیا ہے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ لاہور بالکل مکمل طور پر محفوظ ہے کوئی ایسا ڈیمج کاز نہیں ہوا ہاں ایک ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جگہ ہے جہاں آپ کی کچھ مشینری اور ایکوپمنٹ وغیرہ ہوتی ہے وہاں کچھ ایکوپمنٹ ڈیمج ہوا ہے اور ہمارے چار جوان زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ کہیں پہ میجر ڈیمج کی نہ اطلاعات ہیں، پینک کی ضرورت نہیں۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سکھوں کے پاکستان کے بارے میں بڑے اچھے جذبات ہیں۔

ریٹائرڈ کموڈور حیدر رضا نے کہا کہ انڈیا کا کل سے رویہ بہت غیر معقول ہے، اس نے اٹیک کیا، بارڈر کراس کیا، انٹرنیشنل بارڈر سویلینز کیلنگز، ویمن کیلنگ، چلڈرن کیلنگ ، مساجد، ڈیمز آج پھر اس نے وہی حرکت کی، غیر معقل ڈرون اٹیکز کی، آپ نے ٹیکنالوجی کی بات کی ڈرون بھی ایک ٹیکنالوجی ہے ٹو اٹیک، پہلے انھوں نے ہیرون کیا تھا اور آج انھوں نے ہیروپ استعمال کیا ہے، یہ دو ڈفرنٹ ٹائپس آف ڈرونز ہیں، ہیرون ان مینڈ کمبیٹ وہیکل ہے، ہیروپ کلر ڈرونز کہلاتے ہیں، یہ دونوں اسرائیلی ہیں، یہ ففتھ جنریشن وار فیئر ہے، اس نے رافال ٹیکنالوجی استعمال کر کے دیکھ لی فیل ہو گئی وہ اب اپنی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے وہ بھی فیل ہو گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انھوں نے

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان