حکومت پشاور یونیورسٹی کی درپیش مالی مشکلات ترجیحی بنیادوں پر حل کرے. عبدالواسع
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ ایک طرف وزیراعلیٰ سرپلس بجٹ اور وفاق کو قرضہ دینے کے دعوے کررہا ہے جبکہ عملاً صوبے کی جامعات بدترین مالی بحران سے دوچار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے سرپلس بجٹ اور وفاق کو قرضہ دینے کا دعویٰ کرنے والی صوبائی حکومت کی توجہ پشاور کی عظیم مادر علمی یونیورسٹی آف پشاور میں مسلسل مالی بحران کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پشاور یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے جوکہ صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور ناقص حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا خود پشاور یونیورسٹی کے چانسلر ہیں، مگر اس اہم ادارے کے زوال اور اساتذہ و ملازمین کی معاشی بدحالی پر ان کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بے اختیار کرنے کے بعد صوبائی حکومت پر لازم تھا کہ وہ اپنی جامعات کو سنبھالتی، لیکن افسوس کہ صوبائی حکومت نے نہ کوئی مالیاتی پیکیج دیا اور نہ کوئی اصلاحاتی پالیسی متعارف کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔