مشعال یوسفزئی کا پی ٹی آئی میں سیاسی سفر، صرف 2 سالوں میں صوبائی کابینہ سے سینٹ کیسے پہنچیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ امیدوار مشعال یوسفزئی خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی نشست کے لیے ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوچکی ہیں۔
سال 2023 تک پی ٹی آئی میں مشعال اعظم یوسفزئی کو بہت کم لوگ جانتے تھے۔ تاہم صرف 2 برسوں میں وہ پارٹی کی معروف اور بااثر شخصیات میں شامل ہو گئیں۔
نہ صرف وہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں، بلکہ سخت اندرونی مخالفت کے باوجود صوبائی کابینہ میں وزیر بنیں اور اب سینٹ کی رکن بھی منتخب ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر الیکشن، مشال یوسفزئی بھاری اکثریت سے کامیاب
مشعال یوسفزئی نے سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں 86 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل اپوزیشن امیدوار مہتاب ظفر نے 53 اور پی ٹی آئی کی ہی ناراض رہنما صائمہ خالد نے صرف ایک ووٹ حاصل کیا۔
پی ٹی آئی میں انٹری2023 میں مشعال اعظم یوسفزئی پشاور ہائی کورٹ کی ایک جونیئر وکیل تھیں اور پی ٹی آئی لائرز ونگ کے رہنما معظم بٹ کی شاگرد سمجھی جاتی تھیں۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد جب پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت منظر سے غائب ہوئی تو وکلا منظرِ عام پر آئے۔ اسی دوران مشعال کا رابطہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ہوا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہی تعلق ان کے سیاسی سفر میں تیز ترقی کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی نے سینیٹ ضمنی انتخاب کے لیے مشال یوسفزئی کو ٹکٹ جاری کردیا
مشعال یوسفزئی کون ہیں؟مشعال اعظم یوسفزئی خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھتی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔ 2023 میں وہ پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن کے طور پر سامنے آئیں اور وکلا کے وفود میں نمایاں نظر آنے لگیں۔ 9 مئی کے بعد وہ پارٹی قیادت کی نظر میں آئیں اور خاص طور پر بشریٰ بی بی کے مقدمات میں ان کی موجودگی نے انہیں مزید قریب کر دیا۔
2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو مشعال کو صوبائی کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔ انہیں زکوٰۃ، سماجی بہبود اور خواتین کی ترقی کی وزارت دی گئی۔ تاہم یہ وزارت زیادہ دیر نہ چل سکی اور کچھ عرصے بعد وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انہیں کابینہ سے فارغ کر دیا۔
اختلافات اور تنقیدپارٹی کے اندر بعض لوگ انہیں ‘پراشوٹر’ یعنی اچانک پارٹی میں نمودار ہونے والی شخصیت قرار دیتے ہیں جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں کابینہ میں صرف بشریٰ بی بی کی سفارش پر شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، پارٹی میں داخلی اختلافات کے باعث علی امین گنڈاپور نے انہیں کابینہ سے ہٹا دیا۔
سینیٹ کے لیے نامزدگی اور کامیابیمشعال یوسفزئی نے سینیٹ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور دعویٰ کیا کہ انہیں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ایسا کرنے کی ہدایت ملی ہے۔ اس اعلان پر پارٹی میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ اس کے باوجود عمران خان نے انہیں ثانیہ نشتر کی جگہ سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا۔ جیل میں خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے ملاقات میں عمران خان کی جانب سے مشعال کے نام کی حتمی منظوری دی گئی۔
عمران خان کی حمایت کے باوجود پارٹی کی کئی سینیئر خواتین رہنماؤں نے مشعال مخالفت جاری رکھی۔ خاص طور پر صائمہ خالد جنہوں نے کاغذات واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے مشعال کے خلاف الیکشن میں حصہ لیا تاہم انہیں صرف ایک ووٹ مل سکا۔
اندرونی اختلافاتصائمہ خالد نے الیکشن سے قبل اور بعد میں مشعال کو پارٹی ٹکٹ دیے جانے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ گزشتہ 15 سال سے پارٹی سے وابستہ ہیں لیکن آج تک انہیں وہ مقام نہیں ملا جو صرف دو سالوں میں مشعال کو حاصل ہو گیا۔
پی ٹی آئی میں مشعال کے ناقدین کا موقف ہے کہ وہ صرف تعلقات کی بنیاد پر آگے آئیں، نہ کہ پارٹی کے لیے کسی بڑی قربانی یا جدوجہد کے باعث۔ جب کہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مشعال نے کم وقت میں پارٹی میں اہم روابط قائم کیے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جونیئر وکیل سے صوبائی وزیر اور اب سینیٹر بن گئیں۔
دوسری جانب کئی پرانے کارکن شکوہ کرتے ہیں کہ انہوں نے پوری زندگی پارٹی کو دی لیکن ان کی کوئی پذیرائی نہیں ملی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف خیبرپختونخوا سینیٹ سینیٹ ٹکٹ ضمنی انتخاب عمران خان مشال یوسفزئی مشعال یوسفزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تحریک انصاف خیبرپختونخوا سینیٹ سینیٹ ٹکٹ مشال یوسفزئی مشعال یوسفزئی مشعال یوسفزئی خیبر پختونخوا پی ٹی آئی میں میں مشعال پارٹی میں پارٹی کی نے انہیں کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔