سینیٹ ضمنی الیکشن: حکومتی حمایت یافتہ آزاد امیدوار مشال یوسفزئی کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
مشال یوسفزئی— فائل فوٹو
خیبر پختون خوا اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن میں حکومتی حمایت یافتہ آزاد امیدوار مشال یوسفزئی کامیاب ہو گئیں۔
غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مشال یوسفزئی کو 86 ووٹ ملے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صائمہ خالد نے اپنے تحفظات سے متعلق پارٹی کو آگاہ کردیا تاہم انہوں نے سینیٹ ضمنی انتخاب پر مؤقف دینے سے معذرت کی۔
پی ٹی آئی کی رہنما ثانیہ نشتر کے استعفے کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر پولنگ آج ہوئی، خیبر پختون خوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔
اس سے قبل انتخاب شروع ہونے سے پہلے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوئی۔
سینیٹ کی خالی نشست پر پی ٹی آئی نے مشال یوسفزئی کو نامزد کیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کی صائمہ خالد نے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کی ثوبیہ شاہد، جے یو آئی ف کی شازیہ اور آزاد امیدوار مہتاب ظفر بھی میدان میں تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مشال یوسفزئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔