حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
قراردار پاکستان کو منظور ہوئے تقریباً 85 برس بیت گئے، جس کی منظوری کے سات سال بعد 1947 میں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔
پاکستان ایک ایسی اکائی ہے جس میں مختلف ثقافتوں اور زبانیں بولنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ مملکت خداداد جسے حاصل کرنے کےلیے لاتعداد قربانیاں دینی پڑیں، کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلیے؟
وطن عزیر کو حاصل کرنے کےلیے اُس وقت کے مسلمانوں کے پسِ منظر میں صدیوں کی محرومیاں تھیں، جس سے نجات کےلیے ایک طویل جدوجہد شروع کی گئی کہ برصغیر کے نچلے اور افلاس زدہ مسلمانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکے۔ جبکہ آج حقیقت یہ ہے کہ بحثیت پوری قوم دیانت داری، انصاف اور ترقی کا فریضہ فراموش کرکے اپنی ذاتی اغراض کے اسیر ہوگئی ہے۔
پاکستان کی جدوجہد میں ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جو کہ قوم کو سماجی سطح پر منظم کرنے کے حامی رہے لیکن مسلمان آزادانہ سیاسی کردار ادا کریں اس اشرافیہ کو کبھی قابل قبول نہ تھا۔ یہ اشرافیہ انگریز کے منظور نظر، انگریز استعمار کے وفادار، جاگیردار اور سرمایہ دار لوگ تھے، جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں پاکستان پر قابض ہیں۔
21 ویں صدی میں ایسے نظامِ حکومت کو بہتر سمجھا جاتا ہے جہاں عوام کا تعلق اپنے ریاستی اداروں سے تگڑا اور مضبوط ہو۔ حقیقتاً ریاست اور عوام کے باہمی تعلق کو ہم ان کے درمیان ایک عمرانی معاہدے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جہاں ریاست عوام کو ان کی بنیادی حقوق اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتی ہے تو دوسری جانب عوام بھی ریاستی امور اور قوانین کی مکمل پاسداری کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔
یہ بڑی مشہور کہاوت ہے کہ ’’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘‘ یا یوں کہیے کہ محبت یا لڑائی یکطرفہ نہیں ہوتی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان خلیج مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آزادی کے بعد ایک ذمے دار ریاست کے طور پر حکومتیں عوام کے ساتھ باہمی تعلق کو مضبوط بنانے کےلیے ایسی قانون سازی کرتیں کہ جس میں کمزور طبقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہوتا، تاکہ عوام کی اکثریت ریاستی مفاد کے ساتھ کھڑی ہوتی۔
1973 کے دستور کا بغور جائزہ لیا جائے تو عوامی مسائل کے باب میں ہر پاکستانی کےلیے تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، انصاف، آزادی اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی وغیرہ۔ سب اہم امور شامل ہیں۔ ریاست کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ کمزور طبقات کے مفاد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
آج وطنِ عزیز میں طاقتور اور کمزور طبقات میں بڑھتی ہوئی خلیج ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری حکومتوں سے مسلسل غلطیاں ہورہی ہیں۔ حکومتوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے آج وطنِ عزیز میں بے حس اور ظالمانہ نظام رائج ہوچکا ہے جس میں خلق خدا کی آسانیوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاتا۔
ہماری حکومتیں صرف ٹیکس مانگنا جانتی ہیں، بدلے میں کچھ دینے کو تیار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری حکومتیں عوام کو وہ حقوق دیتیں جو کہ دنیا کے مہذب معاشروں میں ان کے عوام کو حاصل ہیں۔ حقوق دینا تو بہت دور کی بات، آج اپنے حق کےلیے آواز اٹھانا بھی جرم بن گیا ہے۔
کیا آج پاکستان میں کوئی عام شہری تصور کرسکتا ہے کہ پولیس طاقتور کے مقابلے میں اُسے تحفظ فراہم کرے گی؟ ایسے مناظر ہم میں سے بیشتر نے دیکھیں ہوں گے کہ جس میں شکایت کنندہ ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے جبکہ ملزمان کو کرسیاں اور چائے پیش کی جاتی ہے۔ آج عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگر اُسے پولیس سے کام کروانا ہے تو یا تو اس کے پاس وافر پیسے ہوں یا پھر تگڑی سفارش!
78 برسوں سے پاکستان کا سارا بوجھ ایک عام آدمی ہی اٹھا رہا ہے اور ہماری حکومتوں کا مسلسل ایک ہی بیان ہے کہ پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور عوام کو مزید قربانیاں دینی پڑیں گی۔ عوام کے تن کے کپڑے بھی اُتر گئے لیکن پاکستان مشکلات سے نہیں نکلا بلکہ ہر نئی صبح نئی مشکلات کے ساتھ طلوع ہو رہی ہے۔
ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 44.
بجٹ 2025-26 میں پاکستان کی کل آمدنی میں سے 46.7 فیصد ہمیں صرف سود کی مد میں ادا کرنا ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ ہماری حکومتوں نے 78 سال میں اتنی زیادہ محنت کی ہے کہ ہماری تقریباً آدھی آمدنی ہم قرض کی مد میں بیرونی دنیا کو دے دیتے ہیں۔ وطن عزیز کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے 78 سال میں کوئی ایسا نظام بنایا ہی نہیں جو ہمیں حقیقی معنوں میں ترقی کی جانب گامزن کرسکے۔ عوام کو مسلسل دھوکے دیے جارہے ہیں اور ایسے بیانات داغے جاتے ہیں کہ پاکستان کو صرف کچھ سال میں ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کردیا جائے گا لیکن یہ سب زبانی کلامی خرچ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیا ہم نے ایسی اصلاحات کی ہیں جن کی بدولت ہم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہوسکیں؟
آپ اس ملک کے اداروں کی نااہلی کا اندازہ اس خبر سے کریں کہ جون کے آخری ہفتے میں ایک ہی خاندان کے سترہ افراد تفریح کی غرض سے سوات جاتے ہیں اور پانی کے ریلے میں کئی گھنٹے پھنسے رہتے ہیں اور مدد کےلیے اپنے لوگوں اور اداروں کو پکارتے ہیں مگر کوئی اُن کی مد د کو نہ آیا۔ وہ آخری لمحے تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اس امید میں رہے کہ شاید انھیں بچا لیا جائے، لیکن پوری ریاستی مشنری بالکل خاموش تھی۔
ایک اور واقعہ کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں چار جولائی کی صبح پیش آیا جس میں چھ منزلہ رہاشی عمارت زمیں بوس ہوگئی اور اس سانحے میں تقریباً ستائیس افراد اپنی جانوں سے گئے۔ این ای ڈی کے سابق وائس چانسلر اور تعمیر کے ماہر ڈاکٹر سروش لودھی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کراچی میں عمارتوں کی تعمیر کےلیے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا تھا جس کی مجاز اتھارٹی نے منظوری بھی دی تھی لیکن ایس بی سی اے والوں نے اس ضابطہ اخلاق کو اہمیت ہی نہیں دی۔
ہم 78 سال میں کوئی ایسا نظام سسٹم‘‘ تو نہ بنا سکے جو اداروں میں شفافیت لاتا اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جاتا۔ لیکن افسوس اب ایسا ’’سسٹم‘‘ ضرور موجود ہے کہ جس کی آشیرباد سے اداروں میں لوگ تعنیات کیے جاتے ہیں۔
بجٹ کے اعداد و شمار پر غور کریں تو ہمیں باآسانی سمجھ آجائے گا کہ ہماری اشرافیہ کی ترجیحات کیا ہیں۔ جہاں تعلیم کےلیے صرف 39 ارب اور صحت کےلیے صرف 14.3 ارب روپے رکھے گئے ہوں وہاں ہمیں اشرافیہ کی سوچ کا اندازہ کرلینا چاہیے۔
آج کی اشرافیہ عوام کی محدود کمائی سے ٹیکس لے کر عیاشیاں کر رہی ہے اور عام شہری طبقہ بجلی اور گیس کے بلوں سے تنگ ہوکر خودکشیاں کر رہا ہے۔ آج غریب و امیر کا پاکستان الگ الگ ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اسی طرح ملک چلتا رہے گا یا اسے سدھارنے کےلیے کوئی عملی جدوجہد کی جائے گی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ہماری اور عوام یہ ہے کہ کےلیے ا کرنے کے عوام کے عوام کو کے ساتھ سال میں
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔