گیس چوروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 950 کنکشن منقطع
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
احسن عباسی: کراچی سمیت سندھ بھر میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے گیس چوری کے خلاف بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 950 سے زائد غیر قانونی کنکشن منقطع کر دیے۔
ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق گیس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جا رہی ہے،اس دوران مختلف علاقوں میں زیرِ زمین براہِ راست غیر قانونی کنکشنز پکڑے گئے۔
اسٹیل ٹاؤن، ملیر اور سومر گوٹھ کے علاقوں میں 8 انچ ڈسٹری بیوشن لائن سے غیر قانونی کنکشن کے ذریعے 200 گھروں کو گیس فراہم کی جا رہی تھی،ملزمان ہر گھر سے 20 ہزار روپے ایڈوانس اور 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے تھے۔
اسی طرح شاہ لطیف ٹاؤن کے سیکٹر 30-C میں بھی کارروائی کے دوران 6 انچ لائن سے زیر زمین غیر قانونی کنکشن پکڑا گیا، جہاں تقریباً 300 گھروں کو گیس سپلائی کی جا رہی تھی۔
بے نظیر آباد میں 100 گھروں کو غیر قانونی گیس فراہم کی جا رہی تھی جبکہ یار محمد گوٹھ، ملیر کراچی میں 20 انچ مین لائن سے براہ راست گیس چوری کا انکشاف ہوا۔
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
ملزمان نے مین لائن میں سوراخ کر کے 300 گھروں کو گیس فراہم کی ہوئی تھی، اور ہر گھر سے 10 ہزار روپے ایڈوانس اور 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کیے جا رہے تھے۔
ایس ایس جی سی نے بتایا کہ ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں، جبکہ گیس چوری میں ملوث بستیوں پر مسلسل کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔