سیکیورٹی فورسز نےافغان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی،33بھارتی سپانسرڈ خوارج جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
راولپنڈی( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سیکیورٹی فورسز نے 7/8 اگست 2025 کی رات کو، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کے ایک بڑے گروہ کی نقل و حرکت کو ناکام بنا دیا جو پاکستان-افغان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب کے جنرل علاقے سمبازہ میں کارروائی کی ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے دستوں نے مؤثر طریقے سے خارجیوں کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایااور 33بھارتی سپانسر شدہ خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا۔خوارجیوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔
ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام سے گزرتے ہوئے اچانک وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازکی نظر نہر میں موجود گندگی کے ڈھیر پر پڑ گئی، وزیربلدیاتاورسیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی سرزنش
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے دیگر خوارج کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع اور ملک سے ہندوستانی سپانسرڈ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم اور غیر متزلزل ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔