پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کردی گئی، اس دوران ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماعات اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق دفعہ 144 کے تحت 4 یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد ہوگی، اسلحہ کی نمائش اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی نافذ ہے۔
اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت اور تقسیم پر بھی سخت پابندی ہوگی۔
پنجاب حکومت نے سیکیورٹی خدشات پر صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 10 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازوں اور تدفین پر نہیں ہوگا، سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعے کے خطبے کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے، محکمہ داخلہ پنجاب نے ہفتہ 8 نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفعہ 144 کے نفاذ میں
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :