جرگہ سربراہ کا سدرہ کو قتل کرنے،لاش دفنانے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ پیرودھائی علاقہ فوجی کالونی میں جرگہ کے فیصلہ پر غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی سدرہ بی بی قتل کیس میں نئی بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی ٹیم نے قتل کا فتویٰ جاری کرنیوالے جرگہ کے سربراہ عصمت خان سے واردات میں استعمال کی جانے والی کلاشنکوف گھر سے برآمد کر لی۔
ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کے سدرہ بی بی دوسری شادی کرکے مظفر آباد آزاد کشمیرگئی، وہ ساتھیوں ہمراہ کلاشنکوف لیکر مظفر آباد دوسرے شوہر عثمان کے گھر داخل ہوا،خواتیں اور افراد کو یرغمال بنا کر کمرہ میں چھپی سدرہ کو نکالا، اسلحہ نوک پر راولپنڈی لایا اور اپنے سامنے قتل کرایا، قتل کا فتویٰ میں نے جرگہ میں دیا تھا۔
ملزم نے بیان دیتے کہا کہ اپنے کئے پر سخت شرمندہ ہوں، معاف کر دیا جائے جبکہ اس انکشاف کے بعد تفتیشی ٹیم اسے کڑے پہرے میں اس کے گھرگئی، بند کمرہ کھلوا کر خفیہ چھپائی گئی کلاشنکوف برآمد کرا دی۔
پولیس نے کلاشنکوف قبضہ میں لیکر ملزم کے خلاف غیر قانونی کلاشنکوف رکھنے کے جرم میں بھی نیا مقدمہ درج کر لیا، ملزم عصمت اللہ خان کا مزید جسمانی ریمانڈ بھی ڈیوٹی جج نے دے دیا ہے۔
تفتیشی ٹیم نے ڈیوٹی جج کو بتایا کہ ملزم سے مقتولہ سدرہ بی بی کا چھینا گیا موبائل فون اور مقتولہ کو مظفر آباد سے قتل کرنے کیلئے راولپنڈی لائی جانے والی گاڑی بھی برآمد کرنا ہے۔
ملزم کو دوبارہ اب کل عدالت پیش کیا جائے گا، مقتولہ کا چھینا گیا موبائل فون برآمدگی اور گاڑی برآمدگی کے لئے آج ملزم سے نئی تفتیش شروع کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔