ہفتہ کو بھی حج درخواستوں کی وصولی جاری رہے گی، نامزد بینک کھلے رہیں گے: وزارت مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ترجمان وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ رجسٹرڈ عازمینِ حج سے درخواستوں کی وصولی ہفتہ 9 اگست 2025 کو بھی جاری رہے گی، جس کے پیش نظر تمام نامزد بینکوں کو کھلا رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق، وزارت کی درخواست پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 14 نامزد بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہفتے کے روز بھی اپنے مخصوص حج کاؤنٹرز کھلے رکھیں تاکہ عازمین کو سہولت دی جا سکے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق، اب تک 58 ہزار سے زائد حج درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار اپنی سہولت کے مطابق آن لائن یا قریبی نامزد بینک برانچ کے ذریعے اپنی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: حج 2026: آج سے درخواستوں کی وصولی کا آغاز، پہلی قسط 9 اگست تک جمع کرائی جا سکتی ہے
ترجمان نے وضاحت کی کہ وزارت کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مستحق اور خواہش مند شہری کو حج کی درخواست دینے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس لیے ہفتے کے دن بینکوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دفاتر میں مصروف افراد کو اضافی دن کی سہولت دی جا سکے۔
یاد رہے کہ حج درخواستوں کی وصولی کا یہ عمل محدود مدت کے لیے جاری ہے، اور ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آخری تاریخ سے پہلے اپنی درخواستیں مکمل کروائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترجمان وزارت مذہبی امور عازمینِ حج سے درخواستوں کی وصولی ہفتہ 9 اگست 2025.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان عازمین حج سے درخواستوں کی وصولی ہفتہ 9 اگست 2025 درخواستوں کی وصولی
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز