کرک میں سکیورٹی فورسز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کرک میں سکیورٹی فورسز کے ایک مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن میں کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر ہلاک ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا، ضلعی پولیس اور سویلین انٹیلیجنس ادارے نے کرک کے علاقے امبیری کلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن کیا، جس میں کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر جہنم واصل ہوگیا۔
4 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مقابلے میں فتنۃ الخوارج کا خطرناک کمانڈر نثار حکیم انجام کو پہنچا جب کہ مقابلے کے دوران 4 پولیس اہل کار معمولی زخمی ہوئے۔ ہلاک دہشتگرد کمانڈر بین الصوبائی دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا، جس کے قبضے سے اسلحہ ایمونیشن برآمد ہوا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی، کرک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کامیاب آپریشن پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملانے والے دلیر سپوت قابل فخر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور وطن میں امن کیے لیے خیبرپختونخوا پولیس کے جوان دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔