WE News:
2026-06-03@06:52:01 GMT

بھارت کا امریکی اسلحہ خریداری مؤخر کرنے کی خبر کی تردید

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

بھارت کا امریکی اسلحہ خریداری مؤخر کرنے کی خبر کی تردید

بھارتی حکومت نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے امریکا سے نئے ہتھیاروں اور طیاروں کی خریداری کا منصوبہ مؤخر کردیا ہے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے روکنے کی کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت امریکا کے ساتھ دفاع، تجارت اور اسٹریٹجک شعبوں میں فعال اور تعمیری مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: روس سے تیل کی خریداری: ٹرمپ نے بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا

رائٹرز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے نئے تجارتی ٹیرف کے بعد امریکا سے اربوں ڈالر کے دفاعی سودے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بھارت امریکا سے جنگی طیارے، ڈرونز، اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر نظرثانی کر رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں تیزی سے تبدیلی آتی رہی ہے، خاص طور پر ٹیرف سے متعلق معاملات میں، اور اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل جاری ہے تاکہ تمام امور کو باہمی مفاہمت سے حل کیا جا سکے۔

بھارت نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ دفاعی شراکت داری گزشتہ 2 دہائیوں سے مضبوط اور قابلِ اعتماد رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی اسلحہ خریداری بھارت ٹرمپ مودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکی اسلحہ خریداری بھارت کہ بھارت

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام