پیرس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 اگست ۔2025 )بھارت اور امریکا کے درمیان ٹیرف کے معاملے پر تعلقات میں تناﺅ بڑھ رہا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے صدر ٹرمپ کی مسلسل دباﺅ بڑھانے کی پالیسی سے دہلی چین کے قریب جاسکتا ہے فرانسیسی نشریاتی ادارے نے بیجنگ میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہوانگ ہوا کے حوالے سے بتایا کہ ٹیرف حملہ دور اندیشی نہیں ہے اس سے صرف انڈیا کو ہی نقصان نہیں ہو گا بلکہ امریکہ کو زیادہ نقصان ہو گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی انڈیا کی تیئں غلط سمت میں جا رہی ہے.

(جاری ہے)

پروفیسرہوانگ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں انڈیا چین کے قریب آسکتا ہے ہوانگ ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں چین اور انڈیا امریکی دباﺅ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہوں گے ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کانفرنس میں شرکت کے لیے چین جا سکتے ہیں جو ایک بڑی پیش رفت ہوگی. انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مودی کا شی جن پنگ کے ساتھ سٹیج شیئر کرنا ایک پیغام ہوگا کہ دونوں بڑے ملک امریکی دباﺅ کے سامنے نہیں جھک سکتے فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کا خیال ہے کہ ٹیرف کے فیصلے سے امریکہ کو انڈیا کی کل برآمدات کا نصف سے زیادہ متاثر ہوگا دلی میں قائم تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کا اندازہ ہے کہ امریکہ کو انڈیا کی برآمدات میں 40 سے 50 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے.

جی ٹی آر آئی کے سربراہ اجے سریواستو کا کہنا ہے کہ انڈیا کو پرسکون رہنا چاہیے اسے سمجھنا چاہیے کہ خطرے یا عدم اعتماد کی صورت حال میں بامعنی بات چیت نہیں ہو سکتی کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا غصہ نہ صرف انڈیا کی طرف سے روسی تیل نہ خریدنا ہے بلکہ یوکرین میں جنگ بندی کرانے میں ناکامی کی وجہ سے بھی ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے برکس کے رکن برازیل کے بعد انڈیا کو بھی کل 50 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے انڈیا بھی برکس اتحاد کا رکن ہے قبل ازیں وائٹ ہاﺅس نے اضافی ٹیرف کی وجہ انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی مسلسل درآمد بتائی تھی صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی مسلسل درآمد سے روس کو تنہا کرنے کی امریکہ کی کوششیں کمزور پڑ رہی ہیں.

پروفیسر ہوانگ ہوا کا خیال ہے کہ یہ ٹیرف پالیسی امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی انہوں نے چین اور انڈیا کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیا تاکہ وہ ٹرمپ جیسے دباﺅ سے نمٹنے کے قابل ہوں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کا ممکنہ دورہ چین اس سلسلہ میں انتہائی اہم ہوسکتا ہے . بھارت کے سابق سفارت کار سبھروال کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا ٹرمپ واقعی انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگاتے ہیں یہ اضافی 25 فیصد ٹیرف 27 اگست سے نافذ العمل ہوگا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اگلی تجارتی بات چیت اس سے چند روز قبل ہونے والی ہے ان کا کہنا ہے ابھی بات چیت کی گنجائش باقی ہے اور دلی کے پاس آپشنز موجود ہیں ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اب تک اپنے ردعمل میں کافی محتاط رہی ہے تاہم انڈیا کی ترجیحات واضح ہیں انڈین حکومت کہہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور توانائی کی سلامتی کا تحفظ کرے گی انہوں نے کہا کہ جب تک بات چیت جاری ہے اس وقت تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے.

دوسری جانب یورپی ماہرین کا خیال ہے کہ روس کے توسط سے بھارت اور چین کے درمیان کافی عرصے سے بیک چینل رابطے جاری ہیں چونکہ بھارت‘روس ‘چین او ربرازیل برکس اتحاد کے بانی رکن ممالک میں سے ہیں ”برکس“کا تصور ایک ایسے اتحاد کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کے رکن ممالک ایک مشترکہ معاشی نظام‘برکس بینکنگ سسٹم‘تجارتی تعلقات سمیت دیگر معاشی معاملات میں تعاون قائم کریں گے امریکا اور یورپی یونین”برکس“کو ایک نئے عالمی مالیاتی نظام کے طور پر دیکھتے ہیں جو مستقل میں پوری دنیا کا معاشی منظرنامہ بدل سکتا ہے جس سے امریکا اور یورپ کی دنیا کے معاشی اور بنکاری نظام پر اجارہ داری ختم ہوجائے گی. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا ہے کہ کے درمیان انڈیا کی انہوں نے بات چیت چین کے کے لیے

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی