پاک بھارت فضائی جھڑپ ،جنگی کارکردگی جانچنے کا موقع بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
حالیہ تاریخ کی طویل لڑائی ، دونوں طرف کے 125 جنگی طیارے اپنی فضائی حدود سے باہر نہیں نکلے
یہ جھڑپ آئندہ جنگوں کے لیے حکمت عملی اور جنگی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کا ایک بہترین موقع ہے
حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے اور اسے جدید فضائی ہتھیاروں، پائلٹوں کی مہارت اور لڑاکا طیاروں کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک بہترین موقع قرار دیا جارہا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل طیاروں کے درمیان ہونے والی اس فضائی جھڑپ کا دنیا بھر کی افواج تجزیہ کریں گی تاکہ مستقبل کی جنگوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے قیمتی معلومات حاصل کی جا سکیں۔پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان 6 اور 7مئی کی شب ہونے والی جھڑپ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل ترین لڑائی ہے ۔اس فضائی جھڑپ میں چین کے تیار کردہ پاکستانی طیارے جے 10اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رفال لڑاکا طیارے آمنے سامنے آئے ۔سینئر پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں طرف کے تقریبا125طیارے شریک تھے ، دونوں ملکوں کے جنگی طیارے اپنی فضائی حدود سے باہر نہیں نکلے ۔ اس لڑائی کے دوران کچھ موقعوں پر 160کلومیٹر کے فاصلے سے بھی ایک دوسرے پر میزائل داغے گئے ۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان نے بھارتی حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 5 بھارتی طیاروں کو مار گرایا جن میں 3فرانسیسی ساختہ رفال طیارے شامل تھے ۔2امریکی حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بدھ کو پاکستانی فضائیہ کے ایک چینی ساختہ جنگی طیارے نے کم از کم 2بھارتی فوجی طیاروں کو مار گرایا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کی یہ جھڑپ دنیا بھر کی افواج کی گہری توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ جھڑپ آئندہ جنگوں کے لیے حکمت عملی اور جنگی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے ایک بہترین موقع ہے ۔یہ فضائی جھڑپ دیگر ممالک کی افواج کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اس لڑائی میں پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کریں اور اس معلومات کو اپنی فضائی افواج کو جنگ کے لیے تیار کرنے میں استعمال کریں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے عملی استعمال کا دنیا بھر میں بالخصوص چین، امریکا اور دیگر یورپی ممالک میں تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سینئر رکن کا کہنا تھاکہ امریکا اور کئی یورپی ممالک کی فضائیہ پاک بھارت معرکے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، طریقہ کار اور حکمتِ عملی کے ہر پہلو کا گہرائی سے تجزیہ کرنے میں دلچسپی لیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا
مطالبہ کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔
اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25
— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔
’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،
خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری
عائد ہوتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان
نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026
’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی
تباہی پر فخر کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی
کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ