شاہینوں کے ہاتھوں رافیل کی تباہی، فضائی جھڑپ عالمی افواج کیلئے کیس اسٹڈی بن گئی، برطانوی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
شاہینوں کے ہاتھوں رافیل کی تباہی، فضائی جھڑپ عالمی افواج کیلئے کیس اسٹڈی بن گئی، برطانوی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چینی ساختہ پاکستانی جیٹس اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل لڑاکا طیاروں کے درمیان فضائی جھڑپ کا قریب سے جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ذریعے افواج معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کریں گی جو مستقبل کے تنازعات میں برتری فراہم کرسکتی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 2 امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ایک چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیارے نے بدھ کو کم از کم 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا، جو بیجنگ کے جدید لڑاکا طیارے کے لیے ایک ممکنہ بڑی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے۔فضائی جھڑپ فوجوں کے لیے پائلٹوں، جنگی طیاروں اور ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں کی کارکردگی کا مطالعہ کرنے کا ایک نایاب موقع ہے، اور اس معلومات کا استعمال اپنی فضائیہ کو جنگ کے لیے تیار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ جدید ہتھیاروں کے براہ راست استعمال کا تجزیہ دنیا بھر میں کیا جائے گا، بشمول چین اور امریکا جہاں دونوں تائیوان یا وسیع تر انڈو-پیسفک خطے میں ممکنہ تنازع کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ اس بات کا خوب یقین ہے کہ پاکستان نے بھارت کے جنگی طیاروں کے خلاف ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل داغنے کے لیے چینی ساختہ جی-10 طیارے کا استعمال کیا۔
سوشل میڈیا کی پوسٹس نے یورپی گروپ ایم بی ڈی اے کی طرف سے تیار کردہ ریڈار گائیڈڈ ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میٹیور میزائل کے مقابلے میں چین کے ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے پی ایل-15 میزائل کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرکھی ہے، تاہم ان ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹجک مطالعات میں فوجی فضائیہ کے سینئر فیلو ڈگلس بیری نے کہا کہ چین، امریکا اور چند یورپی ممالک میں فضائی جنگ کے ماہرین انتہائی دلچسپی رکھتے ہوں گے کہ اس جھڑپ کے حوالے سے ہر ممکن حقیقی معلومات حاصل کرسکیں کہ اس جھڑپ میں کون سی حکمت عملی، تکنیک، طریقہ کار اور ساز و سامان استعمال ہوا اور کیا کام آیا اور کیا نہیں۔
ڈگلس بیری نے کہا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ چین کے بہترین ہتھیار نے مغرب کے بہترین ہتھیار کا مقابلہ کیا، اگر واقعی یہ موجود تھا، ہمیں یہ معلوم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ فرانسیسی اور امریکی بھارت سے اسی طرح کی معلومات کی توقع کر سکتے ہیں۔دفاعی صنعت سے وابستہ ایک اعلی عہدیدار نے کہا کہ پی ایل-15 ایک بڑا مسئلہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جس پر امریکی فوج بہت توجہ دیتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور میں بھارتی سرویلنس ڈرون کی پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی لاہور میں بھارتی سرویلنس ڈرون کی پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کے خواہشمند مزید 2078پاکستانیوں کو اجازت مل گئی اسلام آباد کی تمام بڑی عمارتوں پر ہنگامی سائرن نصب کر دیئے گئے، ڈپٹی کمشنر مودی کا فالس فلیگ آپریشنز، غیورسکھوں کا بھارت کیخلاف کھڑے ہونے کا اعلان پاکستانی سکھ برادری کی بھارتی جارحیت کیخلاف احتجاجی ریلی پاکستان کی معاشی بحالی ایک حقیقت بن چکی، ملک خود کو مکمل تبدیل کر رہا ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فضائی جھڑپ
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین