اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دشمن کے مزموم ارادے بھانپتے ہوئے پاکستان نیوی نے اپنے لڑاکا جہاز پانیوں میں اُتار کر انہیں مخصوص مقامات پرپہنچا دیا۔

پاک بحریہ کاکہنا ہےکہ وہ کسی بھی مس ایڈوانچر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نیوی کا کہنا ہےکہ بھارتی ائیرکرافٹ کیرئیر اور جہازوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ جارحیت پر اُتری بھارتی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی تعیناتی قابل فہم ہے مگر بھارت کی موجودہ صلاحیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر نے بھارت کا S-400 دفاعی سسٹم تباہ کر دیا

اس کے برعکس بھارتی بحریہ کے اثاثے پاکستان کے لیے ایک پُرکشش ہدف ثابت ہوں گے۔

برطانوی اخبار کی جانب سے بھارتی بیڑے کی پیش قدمی پر ردعمل میں پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ اُس ناکام بھارتی پراپیگنڈے کا تسلسل ہےجس میں گزشتہ شب مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی کی بندرگاہ پرحملہ کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ میزائلوں کی جس رینج کا دعوی کیا گیا ہے وہ بھی گمراہ کن ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نیوی نے دشمن کے کسی بھی مس ایڈونچر کا مقابلہ کرنے کے لیےتیار ہے۔

اس نمائندے سے خصوصی طورپر بات کرتے ہوئے پاکستان بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی نیوی اگر پاکستان کی جانب میلی نگاہ سے بڑھے گی تواسے بحیرہ عرب میں غرق کردیا جائےگا۔

اس سے پہلے برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دعوی کیا تھا کہ بھارت نےسپر سانک کروز میزائل سےلیس اپنے جنگی جہاز پاکستان کی جانب روانہ کردیے ہیں تاکہ کراچی کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا جائے۔

پاک فضائیہ نے انڈین ملٹری سیٹیلائٹ کو جام کر دیا

دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے طیارہ بردار جہاز، ڈیسٹرائیرز، فریگیٹس اور اینٹی آبدوز جہاز روانہ کیے گئے ہیں جو کہ پاکستانی ساحل سے تقریب تین سو سے چار سو ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہیں۔ان میں سے بعض روس کے بنائے گئے براہموس میزائل سے لیس ہیں ۔

پاک بحریہ کے ترجمان نےاس نمائندے سے بات کرتےہوئے کہا کہ جس طرح پاک فضائیہ نے دشمن کو چاروں شانے چت کیا ہے اور وہ اپنے طیاروں کا ملبہ اپنے میڈیا کو دکھانے سے گریز کررہا ہے۔ افواج پاکستان کا دوسرا ونگ پاک بحریہ بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ پر سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی بحریہ کا کو کوئی بھی جہاز ابھی اس قدر قریب نہیں کہ پاکستان کو نشانہ بناسکے، تمام شہر اور شپنگ لین محفوظ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ترجمان نے کہا کہ پاک بحریہ بحریہ کے کہ بھارت کی جانب

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا