پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انڈیا جو کچھ پہلے دن سے کر رہا ہے وہ ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے اور ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔  وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا جو پہلے دن سے کر رہا ہے اور جو 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہوا وہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کا انڈیا کے پانچ طیارے گرانا ان کے لیے شرمندگی کا باعث بن چکا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا اپنی جنگی کارروائیوں کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے جبکہ پاکستان کے اندر 80 انڈین ڈرون گرائے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انڈین حملوں میں اب تک 30 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 62 زخمی ہوئے ہیں۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دنیا کی ذمہ داری ہیکہ وہ انڈیا کو سمجھائے کہ اس نے کیا غلطی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پچھلے 48 گھنٹوں میں متواتر جھوٹ بولے، چھپ چھپ کر ہم پر میزائل اور ڈورون داغے، انڈیا کیلیے یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ وہ جوہری طور پر زیادہ طاقتور ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ رات نور خان، مرید اور شور کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ہم اپنے دفاع میں جواب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارا حق ہے اور فتح ہمیں ہی ہو گی۔ 'پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم بھی جوابی کارروائی کریں گے جو ہمارا حق ہے۔'انہوں نے کہا کہ  دنیا کو بھی یہ معلوم ہو چکا ہے کہ انڈیا نے پہلگام حملے کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے اور پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کر سکا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ہم نے بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انڈیا منافقت اور دہرے معیار سے کام لے رہا ہے، مجھے کوئی پیغام دیے جا رہے ہیں، وزیراعظم صاحب کو کچھ کہا جا رہا ہے جبکہ جو فیلڈ میں ہیں وہ کچھ اور کر رہے ہیں۔'انہوں نے کہا انڈین اقدامات کے بعد پاکستان نے جو بھی ایکشن لیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے بلکہ اس سے زیادہ کارروائی کی جا سکتی تھی اور اس کے لیے بھی ہماری مسلح افواج تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے کہا پاکستان کے کہ انڈیا رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ