پاکستان نے جو بھی ایکشن لیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے: وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انڈیا جو کچھ پہلے دن سے کر رہا ہے وہ ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے اور ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا جو پہلے دن سے کر رہا ہے اور جو 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہوا وہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری افواج کا انڈیا کے پانچ طیارے گرانا ان کے لیے شرمندگی کا باعث بن چکا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا اپنی جنگی کارروائیوں کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے جبکہ پاکستان کے اندر 80 انڈین ڈرون گرائے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انڈین حملوں میں اب تک 30 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 62 زخمی ہوئے ہیں۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دنیا کی ذمہ داری ہیکہ وہ انڈیا کو سمجھائے کہ اس نے کیا غلطی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پچھلے 48 گھنٹوں میں متواتر جھوٹ بولے، چھپ چھپ کر ہم پر میزائل اور ڈورون داغے، انڈیا کیلیے یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ وہ جوہری طور پر زیادہ طاقتور ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ رات نور خان، مرید اور شور کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ہم اپنے دفاع میں جواب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارا حق ہے اور فتح ہمیں ہی ہو گی۔ 'پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم بھی جوابی کارروائی کریں گے جو ہمارا حق ہے۔'انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھی یہ معلوم ہو چکا ہے کہ انڈیا نے پہلگام حملے کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے اور پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کر سکا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ہم نے بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن انڈیا منافقت اور دہرے معیار سے کام لے رہا ہے، مجھے کوئی پیغام دیے جا رہے ہیں، وزیراعظم صاحب کو کچھ کہا جا رہا ہے جبکہ جو فیلڈ میں ہیں وہ کچھ اور کر رہے ہیں۔'انہوں نے کہا انڈین اقدامات کے بعد پاکستان نے جو بھی ایکشن لیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے بلکہ اس سے زیادہ کارروائی کی جا سکتی تھی اور اس کے لیے بھی ہماری مسلح افواج تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے کہا پاکستان کے کہ انڈیا رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔