پاک بھارت سیزفائر: دونوں ممالک نے جنگ بندی کی تصدیق کردی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور بھارت سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے دونوں ممالک کے درمیان فوری جنگ بندی کی تصدیق کردی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتا کیے بغیر خطے میں امن و سلامتی کے لیے کوششیں کی ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہفتہ 10 مئی کے شام ساڑھے 4 بجے پاکستان اور بھارت نے جنگ بند کردی گئی۔
دریں اثنا بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے آج دن کے 3 بج کر 35 منٹ پر انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن سے بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان انڈیا کے وقت کے مطابق 5 بجے سے زمین، فضا اور سمندر میں مکمل جنگ بندی ہو گی۔’
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 12 مئی کو دن 12 بجے ( انڈین وقت کے مطابق) دوبارہ بات ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار پاک بھارت پاک بھارت سیزفائر وکرم مسری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاک بھارت پاک بھارت سیزفائر وکرم مسری پاکستان اور کے درمیان اسحاق ڈار انڈیا کے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔