ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کرسکتے ہیں، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد:وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے نئی دہلی میں پہنچ کر صرف ایک پیغام دیا ہے، ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کر سکتے ہیں، ہمارے کنٹرولڈ ردعمل سے جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی، جو بات چیت ہوگی، اللہ کرے اس سے راستے نکلیں، بھارت اور پاکستان خود 2 ارب افراد کی مارکیٹ ہیں، ہم آپس میں ہی تجارت کریں تو باہر نہیں جانا پڑے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران نئی دہلی پہنچ کر صرف ایک پیغام دیا، ہم نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ”کنٹرولڈ ردعمل“ تھا، جس کے باعث جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ میں کمی آئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ”جو بات چیت ہوگی، اللہ کرے اس سے راستے نکلیں“۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے اور بھارت اور پاکستان خود 2 ارب افراد کی مارکیٹ ہیں، ساتھ میں ڈیڑھ ارب کی چین کی مارکیٹ بیٹھی ہے، ہم آپس میں ہی تجارت کریں تو باہر نہیں جانا پڑے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے بھارتی ملٹری کا اندازہ غلط نکلا، بھارتی سفارتی تجزیے اور اندازے بھی غلط نکلے، ہم پر کسی ملک نے دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ تمام ممالک نے پاکستان کو کہا کہ ”آپ ٹھیک ہیں، کوئی راستہ نکالیں“۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اپنے آپ کو جدید جنگی سازوسامان والے ممالک میں شمار کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان نئی دہلی میں خواجہ ا صف پیغام دیا نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔