بھارت میں رافیل کا ملبہ اٹھانے کی تصویر سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
بھارت میں ایک فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے کے ملبے کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں کرین کے ذریعے ملبہ اٹھایا جا رہا ہے۔
یہ تصویر یورپ کی معروف دفاعی تجزیاتی ویب سائٹ ”بلغاریہ ملٹری ریویو“ نے جاری کی ہے۔
تصویر میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ ملبہ ٹوٹا ہوا اور سیاہ رنگ کا نظر آ رہا ہے۔ یہ ممکنہ طور پر دھماکے یا شدید آگ کی شدت کی علامت ہو سکتی ہے۔
تصویر کی باریک بینی سے کی گئی جانچ پڑتال سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ ملبہ غالباً رافیل لڑاکا طیارے کا ہے، جو بھارتی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ ہے۔
رافیل طیارے کو فرانس سے بھارت میں اسلحے کی فراہمی کے معاہدے کے تحت حالیہ برسوں میں شامل کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ بھارت میں رافیل طیارے کے ایک حادثے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران، ملبے کا مختلف حصے اب تک میڈیا اور حکومتی ذرائع سے منظر عام پر آ چکے ہیں، اور اس تصویر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حادثے کے مقام پر کرین کی مدد سے طیارے کے ملبے کو اٹھایا جا رہا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت میں
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا