قومی ایئر لائن کے بوئنگ 777 طیارے کی ونڈ شیلڈ ایک بار پھر ٹوٹ گئی، طیارہ جدہ ایئر پورٹ پر گراؤنڈ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسکرین گریب
قومی ایئر لائن کے بوئنگ 777 طیارے کی ونڈ شیلڈ ایک بار پھر ٹوٹ گئی، ونڈ شیلڈ ٹوٹنے سے بوئنگ 777 طیارہ جدہ ایئرپورٹ پر گراؤنڈ ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بوئنگ 777 کی ونڈ شیلڈ پہلی بار جمعرات کو 34 ہزار فٹ کی بلندی پر ٹوٹی تھی، بوئنگ طیارے پر لگائی ونڈ شیلڈ تیسرے دن ہی ٹوٹ گئی۔
ذرائع نے بتایاکہ اس ونڈ شیلڈ کو ہائی اسپیڈ ٹیپ لگا کر مضبوط کیا گیا اور ہدایت کی گئی ہے کہ دس دن تک ہر نئی پرواز سے پہلے چیک کیا جائے کہ ٹیپ اُکھڑ تو نہیں گیا ہے۔
ونڈ شیلڈ کی اندرونی اور بیرونی دونوں پرتیں چٹخ گئی ہیں، متاثرہ طیارے میں نئی ونڈ شیلڈ کی بجائے ایک گراؤنڈ طیارے پر لگی پرانی ونڈ شیلڈ نکال کر لگائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ طیارے کے ذریعے لاہور کی پرواز پی کے 860 آپریٹ ہونا تھی، جدہ سے لاہور کی پرواز میں کئی گھنٹے تاخیر ہونے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ونڈ شیلڈ
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔