بھارتی ایئرفورس کا پاکستان سے لڑائی کے دوران 'نقصانات' کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
نیو دہلی:
بھارتی ایئرفورس نے پاک فضائیہ کے ہاتھوں اپنے طیاروں کی تباہی سے متعلق وضاحت کیے بغیر تسلیم کیا ہے کہ نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ایئرفورس نے کہا کہ تفصیلات بتائے بغیر کہا ہے کہ نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن تمام پائلٹس رواں ہفتے پاکستان سے لڑائی کے بعد واپس گھر آگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے عہدیداروں سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ لڑائی کے دوران کتنے طیارے گرے ہیں ہیں اور کیا نقصان ہوا ہے، جس پر بھارتی عہدیداروں نے نقصانات کا اعتراف کیا لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان میں حملوں کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے 4 عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کے 3 جنگی طیارے گر کر تباہ ہوگئے ہیں۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے آگاہ کیا تھا کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 5 طیاروں کو گرادیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔