ملک بھر میں یوم تشکر، ریلیاں، واہگہ بارڈر پر جشن، بھارت پریڈ سے فرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
لاہور+ اسلام آباد+ گوجرانوالہ + شیخوپورہ + قصور + ننکانہ + فیروز والہ (خصوصی نامہ نگار + اپنے سٹاف رپورٹر سے + خبر نگار + نمائندگان) وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر اتوار کو ملک بھر میں یومِ تشکر منایا گیا۔ وطن عزیز کی سلامتی، سالمیت اور استحکام کیلئے اجتماعی دعائوں اور نوافل کا اہتما م کیا گیا۔ اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لایا گیا۔ شہداء و غازیوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور دشمن پر لرزہ طاری کرنے والی بہادر افواج پاکستان کی بے مثال بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اور پوری قوم کے حوصلے اور وحدت کو سراہا گیا۔ شکر گڑھ میں کرتار پور سے نورکوٹ تک احسن اقبال کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں، کل مسلح افواج کے بھارت کو جواب نے ان کی چیخیں نکال دیں۔ چیخیں امریکہ تک سنی گئیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں اظہار تشکر کے موقع پر ایک عظیم الشان تقریب ہوئی جس سے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، نائب صدر انجم عقیل خان اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرئوف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر قائدین نے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کے زیرِاہتمام عسکری و سیاسی لیڈرشپ کی جرات و بہادری کو خراج ِ تحسین پیش کیا گیا۔ مرکزی تقریب جامع مسجد دربار حضرت علی ہجویریؒ میں منعقد ہوئی، سیکرٹری / چیف ایڈ منسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو فتح مبارک، افواجِ پاکستان نے دفاع ِ وطن کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا۔ مفتی محمد رمضان سیالوی‘ ڈپٹی ڈائریکٹر اوقاف آصف اعجاز، زونل ایڈ منسٹریٹر اوقاف شیخ محمد جمیل اور منیجر اوقاف طاہر مقصود نے بھی شرکت کی۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور مرکزی جماعت اہل حدیث کے امیر علامہ زبیر احمد ظہیر اور جماعت کے مرکزی رہنماؤں نے نمازِ ظہر کے بعد جامعہ عمر بن عبدالعزیز گلبرگ میں شکرانے کے نوافل ادا کئے اور حکومت، افواجِ پاکستان اور پوری قوم کو فتح عظیم حاصل کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان نے میدان جنگ میں ہمیشہ شاندار فتح حاصل کی۔ امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کا غرور اور تکبر ملیامیٹ ہو چکا ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ فتح منایا۔ ریلیوں میں شرکاء نے پاکستانی پرچم تھامے "پاکستان زندہ باد" اور "افواج پاکستان پائندہ باد" کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ قاری محمد یعقوب شیخ، چوہدری محمد سرور، شیخ فیاض احمد، مزمل اقبال ہاشمی، حافظ ابوالحسن اور احسن تارڑ سمیت مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے مختلف شہروں میں ریلیوں سے خطاب کیا۔ ریسکیو 1122 لاہور کے ضلعی ہیڈکواٹرز میں یوم تشکر منایا گیا۔ ریسکیورز نے سبز ہلالی پر چم کو سلامی پیش کی۔ تقریب سے ریجنل ایمرجنسی افسر ڈاکٹر فواد شہزاد مرزا‘ ضلعی ایمرجنسی آفیسر شاہد وحید نے بھی خطاب کیا۔ نولکھا چرچ لاہور میں پاک فوج کو سلام پیش کرنے کے لئے بین المذاہب تشکر ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر مجیل ایبل‘ مولانا محمد عاصم مخدوم اور پنڈت بھگت لال کھوکھر نے قیادت کی۔ گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رانا محمد صدیق خاں‘ سینئر نائب صدر احمد نوید رانجھا‘ نائب صدر چودھری محمد یوسف‘ ایگزیکٹو ممبران اور دیگر سینئر قائدین نے راہوالی کینٹ تک ریلی نکالی۔ گوجرانوالہ میں مہمند فلاحی تنظیم کے زیراہتمام ایک بہت بڑی پاکستان زندہ باد ریلی نکالی گئی۔ قیادت جوہر علی خان‘ عطاء الرحمنٰ خان‘ شیر علی خان‘ شاہ محمود حاجی اور نور زمان مہمند و دیگر نے کی۔ پاکستان علما کونسل کے زیراہتمام پاک فوج زندہ باد، دفاع پاکستان ریلی نکالی گئی،جس کی قیادت مولانا زبیر کھٹانہ نے کی، ریلی میں مولانا نور حسین غزنوی، ذیشان عالم، ملک نواز، محمد ندیم، عثمان بٹ، قاری نواب دین ساجد، رانا شعیب، چوہدری شرافت، مولانا غلا م کھٹانہ، یونس ساقی، حاجی اکمل وٹو، خواجہ امتیاز، رانا ندیم سمیت شہریوں کی کثیر تعداد میں شرکت کی، ینگسن آباد اور مارٹن پورچک نمبر371 کی مسیحی برادری کی طرف سے پاکستان زندہ باد ریلی نکالی گئی قیادت اعجاز کندن لعل کلاریا (شنکر) نیکی جبکہ ریلی میں چوہدری رنجیت لعل نمبردار, پادری عمران عرفان گل اور ماسٹر آشر جان سمیت مسیحی مردو خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی, ریلی میں بھارت کے اندر جاکر تباہی مچانے والے پاک فضائیہ کے بہادر پائلیٹ کامران مسیح کے اہل خانہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ ناکوں چنے چبوانے والا ینگسن آباد کا بہادر بیٹا کامران مسیح ہمارا فخر ہے۔ مرکزی مسلم لیگ ننکانہ کے زیرِ اہتمام جنرل سیکرٹری ثاقب مجید کی قیادت میں سانگلہ ہل، شاہ کوٹ اور ننکانہ صاحب میں ریلیاں نکالی گئیں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث ضلع ننکانہ نے یومِ تشکر منایا۔ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے جامع مسجد اشرفیہ (اونچی مسجد، غلہ منڈی) سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ قیادت مولانا یحییٰ خورشید، مولانا کاشف جاوید، مولانا عرفان اشرف، مولانا خلیق الرحمان، مولانا قاری ارشد، قاری فاروق، ڈاکٹر افضل، خان اقبال خان، ملک انور، میاں عابد، حافظ محمد احمد اور دیگر نے کی۔ ننکانہ میں الفتح ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کی۔ شیخوپورہ میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی‘ قیادت وسطی پنجاب کے امیر شیخ فیاض احمد، اور ضلعی جنرل سیکرٹری میاں حبیب الرحمن نے کی۔ ضلعی نائب صدر چودھری طارق محمود گجر ،سٹی امیر حافظ انعام الرحمن، شمعون بھٹہ ، چودھری شہزاد علی ورک ، عبدالرحمن ، ابوفراس، حاجی محمد سلیم ، ڈاکٹر عتیق وڑائچ نے بھی شرکت کی۔ ریسکیو 1122 قصور نے سول سوسائٹی کے ساتھ ملکر یوم تشکر منایا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر نیئر عالم خان نے ریلی کی قیادت کی۔ مسلم لیگ (ن) مرکزی دفتر رچنا ٹاؤن فیروز والا میں ایم پی اے پیر اشرف رسول نے کارکنوں اور شہریوں میں مٹھائی تقسیم کی۔ کوٹ عبدالمالک میں بھی مسلم لیگ کے دفتر میں کارکنوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ دریں اثناء عظیم کامیابی کا جشن منانے کے لئے اتوار کو ہزاروں پاکستانی شہری واہگہ بارڈر پہنچے جہاں فضاء اﷲ اکبر ‘ پاک فوج زندہ باد‘ اور پاکستان پائندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔ پریڈ کے اختتام پر شہریوں نے پاکستان رینجرز پنجاب کے جانبازوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس دوران بھارتی سائیڈ پر مکمل سناٹا چھایا رہا‘ دشمن کا سٹیڈیم خالی رہا‘ بی ایس ایف انڈیا کے جوان پریڈ میں شریک نہیں ہوئے‘ صرف خاموشی سے ترنگا اتارا گیا۔ تحریک دعوت توحید کے مرکزی قائدمیاں محمد جمیل کی اپیل پریوم تشکرمناتے ہوئے مساجدمیں نوافل اداکیے گئے۔میاں محمدجمیل نے کہا کہ اللہ تعالٰی پرتوکّل اورقوت ایمانی نے گائے کے پجاریوںکوگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ ریلی نکالی گئی مسلم لیگ کے تشکر منایا کی قیادت اور دیگر یوم تشکر شرکت کی نے بھی کے زیر نے کہا
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔