بیجنگ :چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این نے پیرو کی سان مارٹن یونیورسٹی، لاطینی امریکہ چینی سیاست اور معیشت کے تحقیقی مرکز، اور چلی کی سینٹیاگو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر 10 لاطینی امریکی ممالک کے 2500 جواب دہندگان پر مبنی ایک سروے کا نتیجہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق جواب دہندگان چین اور لاطینی امریکہ کے تعاون کی کامیابیوں اور مستقبل کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں اور چین و لاطینی امریکہ ہم نصیب معاشرےکو لاطینی امریکہ کے زیادہ تر عوا م کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔سروے کےمطابق 91فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ چینی معیشت کی طویل مدتی ترقی کا رجحان برقرار رہےگا۔ 82.

9فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل لاطینی امریکہ کے ممالک کے لیے سیکھنے کے قابل ہے۔ 86.2فیصد لاطینی امریکی جواب دہندگان نے چین کے بارے میں جبکہ 87.7فیصد نے لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے والی چینی کمپنیوں کے لیے مثبت رویہ ظاہر کیا ہے۔ سروے میں 18 سے 24 سال کے نوجوان جواب دہندگان میں 87.7فیصد نے چین کے بارے میں اپنی پسندیدگی ظاہر کی ہے ، جبکہ 25 سے 34 سال کے جواب دہندگان میں یہ شرح بڑھ کر 92.2فیصد ہے۔ 80.4فیصد جواب دہندگان نے بیلٹ اور روڈ انیشی ایٹو کے لاطینی امریکہ کی اقتصادی و سماجی ترقی پر مثبت اثرات کی تعریف کی اور90فیصد کا ماننا ہے کہ چین کی لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری مقامی اقتصادی ترقی میں مؤثرکردارادا کرتی ہے۔سروے میں شامل ممالک میں برازیل، میکسیکو، ارجنٹائن، چلی، پیرو، ہونڈوراس، پاناما، نیکاراگوا، ایل سلواڈور اور ڈومنیکن شامل ہیں۔ جواب دہندگان کی عمر 18 سے 55 سال کے درمیان ہے اور یہ سروے سیمپل ان ممالک کی مردم شماری کی عمر اور جنس کی تقسیم کے مطابق ہے۔

Post Views: 7

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: لاطینی امریکہ جواب دہندگان

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا