سی جی ٹی این اور تین لاطینی امریکی تھنک ٹینکس کی جانب سے مشترکہ سروے کے نتائج کا اجراء WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این نے پیرو کی سان مارٹن یونیورسٹی، لاطینی امریکہ چینی سیاست اور معیشت کے تحقیقی مرکز، اور چلی کی سینٹیاگو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر 10 لاطینی امریکی ممالک کے 2500 جواب دہندگان پر مبنی ایک سروے کا نتیجہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق جواب دہندگان چین اور لاطینی امریکہ کے تعاون کی کامیابیوں اور مستقبل کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں اور چین و لاطینی امریکہ ہم نصیب معاشرےکو لاطینی امریکہ کے زیادہ تر عوا م کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

سروے کےمطابق 91فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ چینی معیشت کی طویل مدتی ترقی کا رجحان برقرار رہےگا۔ 82.

9فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چین کا ترقیاتی ماڈل لاطینی امریکہ کے ممالک کے لیے سیکھنے کے قابل ہے۔ 86.2فیصد لاطینی امریکی جواب دہندگان نے چین کے بارے میں جبکہ 87.7فیصد نے لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے والی چینی کمپنیوں کے لیے مثبت رویہ ظاہر کیا ہے۔ سروے میں 18 سے 24 سال کے نوجوان جواب دہندگان میں 87.7فیصد نے چین کے بارے میں اپنی پسندیدگی ظاہر کی ہے ،

جبکہ 25 سے 34 سال کے جواب دہندگان میں یہ شرح بڑھ کر 92.2فیصد ہے۔ 80.4فیصد جواب دہندگان نے بیلٹ اور روڈ انیشی ایٹو کے لاطینی امریکہ کی اقتصادی و سماجی ترقی پر مثبت اثرات کی تعریف کی اور90فیصد کا ماننا ہے کہ چین کی لاطینی امریکہ میں سرمایہ کاری مقامی اقتصادی ترقی میں مؤثرکردارادا کرتی ہے۔سروے میں شامل ممالک میں برازیل، میکسیکو، ارجنٹائن، چلی، پیرو، ہونڈوراس، پاناما، نیکاراگوا، ایل سلواڈور اور ڈومنیکن شامل ہیں۔ جواب دہندگان کی عمر 18 سے 55 سال کے درمیان ہے اور یہ سروے سیمپل ان ممالک کی مردم شماری کی عمر اور جنس کی تقسیم کے مطابق ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین پاک انسداد آفات سرگرمیوں نے جنوب- جنوب تعاون کے لیے “چین پاک حل” پیش کیا ، چینی میڈیا چین پاک انسداد آفات سرگرمیوں نے جنوب- جنوب تعاون کے لیے “چین پاک حل” پیش کیا ، چینی میڈیا چین عالمی معیشت کی حکمرانی میں ڈبلیو ٹی او کے مزید فعال کردار کی حمایت کرتا ہے، چینی نائب وزیراعظم چین امریکہ مذاکرات میں عملی پیشرفت اور اہم اتفاق رائے طے پا گیا چین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات کے بڑے مواقع موجود ہیں، چینی نائب وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 9 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 2جون کو پیش ہوگا، درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: لاطینی امریکی

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟