چین امریکہ مذاکرات میں عملی پیشرفت اور اہم اتفاق رائے طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
چین امریکہ مذاکرات میں عملی پیشرفت اور اہم اتفاق رائے طے پا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین اور امریکہ کے درمیان اعلی سطحی اقتصادی اور تجارتی مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوئے۔ اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے چینی سربراہ اور چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ نے چینی وفد کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ چین- امریکہ اقتصادی اور تجارتی اعلی سطحی مذاکرات کھلے، گہرے اور تعمیری تھے، جن میں اہم اتفاق رائے اور عملی پیشرفت حاصل ہوئی۔ فریقین نے چین- امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورت کا میکانزم قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے
۔حہ لی فنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد، مذاکرات ثمر آور رہے ہیں اور مساوات پر مبنی مکالمے اور مشاورت کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جو اختلافات کو مزید کم کرنے اور تعاون کو گہرا کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔حہ لی فنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام اور ترقی پر بھی گہرا اثر رکھتے ہیں۔
چین امریکہ کے ساتھ مل کر رواں سال 17 جنوری کو دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں ہونے والے اہم اتفاق رائے کو فعال طور پر نافذ کرنے، مسائل کے حل کے لیے عملی رویے اپنانے ، کھلے دل سے مکالمہ اور مساوات پر مبنی مشاورت کرنے، اختلافات پر قابو پانے، تعاون کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، تعاون کی فہرست کو طویل کرنے، تعاون کے کیک کو بڑا کرنے، چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی ترقی دلانے اور عالمی معیشت کو زیادہ یقین اور استحکام فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات کے بڑے مواقع موجود ہیں، چینی نائب وزیراعظم چین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات کے بڑے مواقع موجود ہیں، چینی نائب وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 9 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 2جون کو پیش ہوگا، درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان امریکہ کے مقابلے میں چین کے ساتھ تجارت زیادہ فائدہ مند ہے، چینی میڈیا سروے چینی صدرچین شی جن پھنگ کا دورہ روس دوسری جنگ عظیم کی فتح کےثمرات کا دفاع ضروری ہے ، چینی میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اہم اتفاق رائے چین امریکہ
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :