امریکا اور چین میں تجارتی خسارہ کم کرنے پر معاہدہ، تفصیلات مؤخر کیوں کی گئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ چین کے ساتھ 2 روزہ مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے میں کمی لانا ہے۔ تاہم انہوں نے معاہدے کی تفصیلات سوموار تک مؤخر کر دی ہیں۔
بیسنٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات انتہائی مفید رہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پیشرفت سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ مذاکرات میں چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
دونوں امریکی عہدیداروں نے موجودہ بھاری ٹیرف چینی مصنوعات پر 145 فیصد اور امریکی مصنوعات پر چین کی جانب سے 125 فیصد محصولات کے خاتمے یا نرمی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ گریئر نے ان مذاکرات کو چینی شراکت داروں کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکا کے 1.
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ ٹیرف اور تجارت پر مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا
یہ ملاقات صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکا اور چین کے اعلیٰ حکام کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے فروری میں چین پر 20 فیصد نیا ٹیرف عائد کرکے عالمی تجارتی محاذ کھولا تھا، جس کے بعد اپریل میں یہ شرح 34 فیصد تک جا پہنچی اور بعد ازاں 145 فیصد ہو گئی۔
چین کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ٹیرف میں کمی ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کو پہلی بار یہ عندیہ دیا کہ 80 فیصد ٹیرف مناسب معلوم ہوتا ہے، جو کسی خاص ہدف کی طرف پہلا اشارہ تھا۔
گریئر نے بتایا کہ جنیوا میں مذاکرات سے قبل کافی تیاری کی گئی تھی اور یہ معاہدہ امریکی قومی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے جو تجارتی خسارے سے جڑی ہوئی ہے۔ چینی حکام اتوار کی شام جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دینے والے تھے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا چینی مصنوعات پر ٹیرف 80 فیصد تک لانے کا عندیہ
دوسری طرف، وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسیٹ نے کہا کہ چین انتہائی سنجیدگی سے تجارتی توازن پر بات چیت کا خواہاں ہے، اور آئندہ چند دنوں میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی تجارتی معاہدوں کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو دوستی پر مبنی مگر تعمیری قرار دیا اور سوشل میڈیا پر لکھا: “GREAT PROGRESS MADE!!!”
یہ مذاکرات جنیوا کے ایک پرتعیش ولا میں ہوئے، جو سوئٹزرلینڈ کے اقوامِ متحدہ کے سفیر کی ملکیت ہے اور جھیل جنیوا کے کنارے واقع ہے۔ سوئٹزر لینڈ نے غیر جانبدار میزبان کے طور پر کردار ادا کیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے مذاکرات کو مثبت اور ضروری قدم قرار دیا جس سے اختلافات کم ہوں گے اور کشیدگی میں اضافہ روکا جا سکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ ٹیرف چین خبر رساں ایجنسی شِنہوا سوئٹزرلینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹیرف چین خبر رساں ایجنسی ش نہوا سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو کے ساتھ
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔